مصطفی عبدالجلیل کی قیادت میں ماضی میں عبوری کونسل ملک میں سرگرم متعدد ملیشیاؤں کو قومی پرچم تلے جمع کرنے کے لئے کوشاں رہے ہیں تاکہ ملک میں امن و امان کی مکدر صورتحال کو کنڑول کیا جا سکے۔
لیبیا میں نئے وزیر اعظم کے انتخاب کے بعد صورتحال میں بہتری کی ساری امیدیں اب ان سے وابستہ کی جا رہی ہیں۔
نئے لیبی رہ نما علی زیدان کو مصطفی ابو شاقور کی جگہ ملک کا سربراہ منتخب کیا گیا ہے۔ ابو شاقور نیشنل کانگریس سے مسلسل دو مرتبہ اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔
جنوبی لیبیا میں ان دنوں بعض قبائل اور مسلح ملیشاؤں کے درمیان جھڑپوں میں فریقین کے دسیوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید