انھوں نے کہا کہ مذمت کیلیے کہنے والے خودقاتل ہیں، ایسے لوگ اپنے آپ کو قابومیں رکھیں،کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں مذمت کاکہنے والے ہوتے کون ہیں،ایساکہنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں ہم نے ان سے اچھے طریقے سے مذمت کی ہے،انھوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور مساجد پر بمباری کی گئی۔ان مساجد پر بمباری روکنے والا کوئی نہیں۔
ملالہ یوسف زئی پر حملہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،اور اب علماء سے کہا جارہا ہے کہ وہ مذمت کریں۔اس واقعے کو علما کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔
ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم بحال کی ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید