انھوں نے کہا کہ مذمت کیلیے کہنے والے خودقاتل ہیں، ایسے لوگ اپنے آپ کو قابومیں رکھیں،کراچی میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ نے مزید کہا کہ ہمیں مذمت کاکہنے والے ہوتے کون ہیں،ایساکہنے والوں کو بتانا چاہتے ہیں ہم نے ان سے اچھے طریقے سے مذمت کی ہے،انھوں نے کہا کہ معصوم بچوں اور مساجد پر بمباری کی گئی۔ان مساجد پر بمباری روکنے والا کوئی نہیں۔
ملالہ یوسف زئی پر حملہ حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے،اور اب علماء سے کہا جارہا ہے کہ وہ مذمت کریں۔اس واقعے کو علما کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔
ایک سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جماعت اسلامی کے بغیر ایم ایم بحال کی ہے۔
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…
معروف عالم مولانا سید سلمان حسینی ندوی کا انتقال، علمی دنیا سوگوار