برطانیہ نے عدالتی فیصلے کے بعد ابو حمزہ المصری سمیت پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کر دیا ہے۔
جمعہ کو برطانیہ میں ہائی کورٹ کے ججوں نے ایک فیصلے میں پانچ مشتبہ دہشت گردوں کو امریکہ کے حوالے کرنے کا حکم دیا تھا۔
جمعہ کو پانچوں مشتبہ دہشت گردوں کو سافوک میں رائل ائر فورس کے اڈے پر امریکی مارشلز کے حوالے کیا گیا۔
امریکی اہلکار ایک خصوصی جہاز کے ذریعے مشتبہ دہشت گردوں کو ساتھ لے کر روانہ ہو گئے ہیں۔
ریڈیکل مبلغ بابر احمد، سید طلحہ احسن، عادل عبدل باری اور خالد الفواز کوئی ایسی شہادت دینے سے قاصر رہے جو یہ ثابت کر سکے کہ انہیں امریکہ نہ بھیجا جائے۔
ان کی یہ درخواست اس وقت سامنے آئی جب انسانی حقوق کی یورپی عدالت نے ان کے اور چار دیگر افراد کے خلاف مقدمات رکوانے کی درخواست مسترد کر دی تھی۔
ججوں نے کہا کہ ان کی امریکہ حوالگی پر فوری عمل کیا جائے۔
وزارتِ داخلہ کے ایک ترجمان نے اس فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ان افراد کو جلد از جلد (امریکہ کے) حوالے کرنے کے حکم پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
جج سر جان تھامس اور مسٹر جسٹس اوسلے نے کہا کہ حوالگی کے حوالے سے عوام کی اس میں بہت دلچسپی ہے اور ’ہمارے فیصلے کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو گی۔‘
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہر درخواست گزار کی عدالتی نظر ثانی اور مقدمے کو دوبارہ کھولنے کی درخواست کی اپیل کو مسترد کیا جاتا ہے۔
ججوں نے ابو حمزہ کی خراب طبیعت کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’جتنا جلدی ان پر مقدمہ چلایا جائے اتنا ہی بہتر ہے۔‘
ابو حمزہ کے وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ آٹھ سال سے جیل میں قید رہنے کی وجہ سے ڈپریشن اور نیند نہ آنے کے مرض میں مبتلا ہیں۔
ابو حمزہ اور دیگر افراد کے خلاف مقدمات نوے کی دہائی کے اواخر سے التوا کا شکار ہیں۔
ابو حمزہ پر الزام ہے کہ وہ امریکہ میں دہشت گردوں کا ایک تربیتی کیمپ بنانا چاہتے تھے اور وہ یمن میں مغربی افراد کے اغوا میں بھی ملوث تھے۔