برسلز (العربیہ ڈاٹ نیٹ) شمالی اوقیانوس کے ممالک کے فوجی اتحاد ‘نیٹو’ نے شام سے ترک علاقوں پر راکٹ حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔ برسلز میں نیٹو کے ایک ہنگامی اجلاس میں شام کو خبردار کیا گیا ہے کہ وہ ترکی پر حملوں کے ذریعے عالمی برادری کے غیظ غضب کو دعوت نہ دے اور اپنی حدودں میں رہے۔
خیال رہے کہ نیٹو ممالک کا یہ ہنگامی اجلاس انقرہ کے مطالبے پر شام سے ترکی کی کے ایک سرحدی شہر پر راکٹ حملوں کے بعد طلب کیا گیا تھا۔ شام سے ملحق ترک سرحدی قصبے پر شامی فوج کے راکٹ حملوں میں کم سے کم پانچ افراد ہلاک اور نو زخمی ہو گئے تھے۔
اجلاس کے بعد میڈیا کے لیے جاری ایک بیان میں شمالی اوقیانوس کی تنظیم نے اس رائے کا اظہار کیا کہ نیٹو ممالک اٹھائیس ملکوں پر مشتمل اتحاد کے دیرینہ رکن ترکی کے ساتھ ہے اور اسے دشمنانہ کارروائیوں میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ شام سے ترکی کی سر زمین پر راکٹ حملے عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔ شام ان حملوں کو روک دے ورنہ اس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ شام سے ترکی میں حملے نیٹو کے لیے ایک بڑی تشویش کا باعث ہیں۔ نیٹو اتحاد اپنے کسی بھی رکن کی سلامتی کو لاحق خطرات کے ازالے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھانے کو تیار ہے۔
خبر رساں ایجنسی ‘اے ایف پی’ کے مطابق برسلز میں نیٹو کا اجلاس تقریباً ایک گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں شام سے ترکی میں ہونے والے حملوں پر تفصیل سے غور کیا گیا۔ اجلاس میں تمام نیٹو تنظیم کے تمام ممالک کے سفیر اور مندوبین شریک تھے۔ اس موقع پر ترک مندوب نے اجلاس کو جنوب مشرقی ترکی میں ہونے والے شامی حملے کے بارے میں بریفنگ دی۔
یاد رہے کہ شام میں عوامی بغاوت کی تحریک کے آغاز کے بعد ترکی کے حوالے سے نیٹو ممالک کا یہ دوسرا ہنگامی اجلاس تھا۔ قبل ازیں چھبیس جون کو شامی فضائیہ کے حملے میں ترکی کا ایک جنگی طیارہ مار گرائے جانے کے بعد بھی نیٹو کا ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں ترکی کا طیارہ گرائے جانے کی شدید مذمت کی گئی تھی۔