Categories: انٹرويوز

قربانیوں کیلیے تیار ہیں پر قتل ہونے کو نہیں

کابل (بی بی سی) افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان ایلن نے کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں مہم کے لیے بہت داؤ پر لگانے کے لیے تیار ہے لیکن اس میں امریکیوں کا قتل شامل نہیں ہے۔
امریکی ٹی وی سی بی ایس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے فوجیوں پر افغان فوجیوں کے بڑھتے ہوئے حملوں پر شدید ناراض ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایمانداری سے بتاؤں تو میں ان پر پاگل پن کی حد تک ناراض ہوں۔ ان واقعات کی گونج امریکہ کے طول و عرض میں سنائی دیتی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ ہم اس مہم کے لیے بہت کچھ قربان کرنے کو تیار ہیں لیکن ہم اس کے لیے قتل ہونے کو تیار نہیں‘۔
امریکی جنرل کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی فوجی حکام نے تصدیق کی ہے کہ دو ہزار ایک سے جاری فوجی مہم کے دوران افغانستان میں ہلاک ہونے والے امریکی فوجیوں کی تعداد دو ہزار ہوگئی ہے۔
یہ تعداد اتوار کو افغان سکیورٹی فورسز کے ایک باغی اہلکار کے ہاتھوں دو امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے نتیجے میں پوری ہوئی۔
رواں سال اب تک افغان سکیورٹی اہلکاروں کے ہاتھوں پچاس غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس ماہ کے آغاز میں اسی وجہ سے نیٹو افواج نے افغان فوجیوں کے ساتھ مشترکہ گشت کرنا کم کر دیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکہ دو ہزار چودہ کے آخر تک افغانستان سے اپنی بیشتر لڑاکا فوج واپس بلانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
گذشتہ چند ماہ میں غیر ملکی فوجیوں کی افغان باغی اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغان حکومت اور اس کی افواج آئندہ دو سال میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو سکیں گی۔
اس حملے میں نیٹو کا ایک نجی کانٹریکٹر اور دو افغان فوجی بھی مارے گئے۔
آئی کیژوئلٹیز نامی ایک آزاد تنظیم کے مطابق افغانستان میں اب تک اس کے علاوہ ایک ہزار ایک سو نوے اتحادی فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔
بروکنگز انسٹیٹیوٹ کے جمع کردہ اعداد و شمار کے مطابق چالیس اعشاریہ دو فیصد ہلاکتیں خود ساختہ بموں کی وجہ سے ہوئی ہیں جب کہ تیس اعشاریہ چھ فیصد دشمن کی فائرنگ کا نتیجہ تھیں۔
عام شہریوں کی ہلاکت کی تعداد کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل ہے۔ سنہ دو ہزار سات سے گذشتہ اگست تک عام شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد اقوامِ متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق تیرہ ہزار چار سو اکتیس تھی۔ اگر سنہ دو ہزار ایک کے امریکی حملے سے شمار کیا جائے تو یہ تعداد بیس ہزار کے لگ بھگ مانی جاتی ہے۔
دو ہزار امریکی فوجیوں کی ہلاکت خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی شائع کردہ اطلاعات کے مطابق ہے جو افغانستان میں موجود امریکی فوجیوں ہی کو اس گنتی میں شامل کرتی ہے۔ کچھ دیگر ادارے ایسے افراد کو بھی گنتی میں شامل کرتے ہیں جو دوسرے ممالک میں، مگر صدر جارج بش کے شروع کیے ہوئے آپریشن انڈیورنگ فریڈم کے سلسلے میں ہی ہلاک ہوئے۔
سنہ دو ہزار ایک افغانستان پر کیے جانے والے امریکی حملے کا مقصد گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کو ہونے والے واقعات کے بعد القاعدہ اور طالبان کو نشانہ بنانا تھا۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں تقریباً تین ہزار ہلاکتیں ہوئی تھیں۔

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago