انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
اختر مینگل نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ معافی بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ ’کیا ان قوتوں کو بلوچستان پر کیے گئے مظالم پر پچھتاوا ہے میرے خیال میں نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو آج دن تک ہمیں لاشیں نہیں ملتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پچپتاوا ہوتا تو سپریم کورٹ میں ان کا رویہ جارحانہ نہ ہوتا۔ ’جن کو آئینی طور پر اٹارنی جنرل کہا جاتا ہے لیکن وہاں پر (سپریم کورٹ) اس کا رویہ ایک لیفٹیننٹ جنرل کا سا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو خیرات اور حق میں فرق نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نہ پہلے خیرات کا طلبگار تھا اور نہ ہی اب ہے چاہے وہ پیکجز ہوں یا این ایف سی ایوارڈ میں رقم کی ہیر پھیر ہو۔
ان کا کہنا تھا ’مرکزی حکومت پر ہمیں اعتماد نہیں ہے۔ میں تو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے میں کرن دیکھ کر آیا ہوں اور اس کے فیصلے کا انتظار کروں گا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال میں بیرونی ہاتھ صرف وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ہی کو نظر آتا ہے اور کسی کو نظر نہیں آ رہا۔
"عدل و انصاف کی ترویج"، "متحرک معیشت"، اور "عوام کی رضامندی" حکومتوں کی بقا کا…
زاہدان میں 17 جولائی 2026 کو نماز جمعہ کے اجتماعات کے دوران شیخ الاسلام مولانا…
"مذاکرات اور بات چیت" ملک کو بچانے کا بہترین طریقہ ہے
غزہ میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے زاہدان میں نماز جمعہ تین جولائی 2026ء کے خطبے کے…
دنیا کا ہر حساس فرد غزہ پر اسرائیلی جارحیت پر مضطرب ہے، نصف صدی قبل…