انہوں نے یہ بات اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کے ساتھ ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔
اختر مینگل نے کہا کہ وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ معافی بلوچستان کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ ’کیا ان قوتوں کو بلوچستان پر کیے گئے مظالم پر پچھتاوا ہے میرے خیال میں نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو آج دن تک ہمیں لاشیں نہیں ملتی۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ اگر پچپتاوا ہوتا تو سپریم کورٹ میں ان کا رویہ جارحانہ نہ ہوتا۔ ’جن کو آئینی طور پر اٹارنی جنرل کہا جاتا ہے لیکن وہاں پر (سپریم کورٹ) اس کا رویہ ایک لیفٹیننٹ جنرل کا سا ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ حکمرانوں کو خیرات اور حق میں فرق نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان نہ پہلے خیرات کا طلبگار تھا اور نہ ہی اب ہے چاہے وہ پیکجز ہوں یا این ایف سی ایوارڈ میں رقم کی ہیر پھیر ہو۔
ان کا کہنا تھا ’مرکزی حکومت پر ہمیں اعتماد نہیں ہے۔ میں تو سپریم کورٹ میں لاپتہ افراد کے مقدمے میں کرن دیکھ کر آیا ہوں اور اس کے فیصلے کا انتظار کروں گا۔‘
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صورتحال میں بیرونی ہاتھ صرف وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک ہی کو نظر آتا ہے اور کسی کو نظر نہیں آ رہا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید