- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اسلام مخالف فلم سے تشدد کا جواز فراہم نہیں کیا جا سکتا:براک اوباما

نیویارک(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں) امریکی صدر براک اوباما نے لیبیا کے دوسرے بڑے شہر بن غازی میں دوہفتے قبل امریکی قونصل خانے پر حملے کو امریکا پر حملہ قرار دے دیا ہے اور کہا ہے کہ امریکی سفیر کرسٹوفر اسٹیوینز کے قاتلوں کا سراغ لگایا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اسلام مخالف فلم سے کسی طرح بھی قتل اور تشدد کا جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا۔

براک اوباما منگل کو نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سڑسٹھویں سالانہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ اسلام مخالف فلم کے ردعمل میں تشدد کا کوئی جواز نہیں تھا۔ان کے الفاظ میں ”بن غازی میں ہمارے شہریوں پرحملہ دراصل امریکا پر حملہ ہے۔اس بات میں کوئی شک نہیں رہنا چاہیے کہ ہم قاتلوں کا پیچھا کرنے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے ان تھک کوششیں کریں گے”۔

براک اوباما نے کہا کہ ”اسلام مخالف فلم سے امریکا کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ہمیں یادرکھنا چاہیے کہ مسلمانوں کو انتہا پسندوں سے زیادہ نقصان پہنچا ہے۔پیغمبر اسلام کی توہین کی مذمت کی جانی چاہیے بالکل اسی طرح جس طرح گرجا گھروں کی بے توقیری اور ہولوکاسٹ سے انکار کی مذمت کی جاتی ہے”۔

انھوں نے کہا کہ ”ہمیں آج یہ عزم کرنا ہوگا کہ ہمارے مستقبل کا کرس اسٹیونز جیسے لوگ تعین کریں گے اور ان کے قاتل نہیں۔آج ہمیں یہ اعلان کرنا ہوگا کہ تشدد اور عدم رواداری کی اقوام متحدہ میں کوئی جگہ نہیں ہے”۔ان کے بہ قول کرس اسٹیونز کی وراثت زندہ رہے گی۔

امریکی صدر نے انتہاپسند قبطی عیسائیوں کی جانب سے امریکا میں اسلام مخالف فلم کی تیاری کی مذمت کی لیکن ساتھ ہی کہا کہ ”جس برے شخص نے بھی یہ کام کیا ہے،اس سے قطع نظر امریکی آئین میں آزادیٔ اظہار کو تحفظ دیا گیا ہے اور قتل اور تشدد کا کسی طرح بھی جواز فراہم نہیں کیا جاسکتا”۔

انھوں نے کہا کہ ”امریکا میں بے شمار اشتعال انگیز تحریریں شائع ہوتی ہیں۔میری طرح امریکیوں کی اکثریت عیسائی ہے لیکن ہم اپنے مقدس عقائد کے مقابلے میں توہین (مذاہب) پر پابندی نہیں لگا سکتے”۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ 2012ء میں سیل فون رکھنے والا کوئی بھی شخص صرف ایک بٹن کو دبانے سے دنیا بھر میں جارحانہ اور اشتعال انگیز خیالات کو پھیلا سکتا ہے۔اس صورت حال میں ہم اطلاعات کو روک نہیں سکتے بلکہ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارا ردعمل کیا ہونا چاہیے اور ہمیں اس بات پر متفق ہونا چاہیے کہ ایسی کوئی تقریر نہیں ہونی چاہیے جس سے پاگل پن پر مبنی تشدد کو جواز فراہم کیا جاسکتا ہو۔

ان کا کہنا تھا کہ ”بے گناہوں کی ہلاکتوں کے جواز کے لیے کوئی الفاظ نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی ویڈیو ہے جس سے ایک سفارت خانے پر حملے کو جائز قرار دیا جاسکے”۔

انھوں نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ گذشتہ دوہفتوں کے دوران رونما ہونے والے واقعات کے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم مغرب اور عرب دنیا کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے دیانتداری سے کوششیں کریں۔
شام پر پابندیاں
شام میں جاری خانہ جنگی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ اگر شامی صدر بشارالاسد سفاکانہ لڑائی کو جاری رکھتے ہیں تو ان کے خلاف پابندیاں عاید کی جانی چاہئیں۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ”اپنے ہی عوام کا قتل عام کرنے والے آمر کا مستقبل نہیں ہونا چاہیے۔اگر آج کی دنیا میں مظاہروں کے بعد چیخیں بلند ہورہی ہیں تو وہ اس رجیم کے بچوں پر تشدد کا نتیجہ ہیں اور وہ رہائشی عمارتوں پر راکٹ برسا رہا ہے”۔

انھوں نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹرز میں مجتمع عالمی لیڈروں سے خطاب میں کہا کہ ”ہمیں یہاں ایک مرتبہ پھر یہ اعلان کرنا ہوگا کہ بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہونا چاہیے تاکہ شامی عوام کے مصائب کا خاتمہ ہوسکے اور وہاں ایک نئی صبح کا آغاز ہو”۔

امریکی صدر نے خبردار کیا کہ عالمی برادری کو شام میں گذشتہ اٹھارہ ماہ سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری مزاحمتی تحریک کو فرقہ وارانہ تشدد میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے اقدامات کرنے چاہئیں۔

انھوں نے کہا کہ امریکا ایک متحد شام چاہتا ہے جس میں بچوں کو اپنی ہی حکومت سے کوئی خوف وخطرہ نہ ہو اور تمام شامیوں کی حکومتی امور میں ایک آواز ہو۔سنیوں، علویوں ،کردوں اور عیسائیوں سب کا حکومتی نظم ونسق میں حصہ ہو۔یہی وہ نتیجہ ہے جس کے لیے ہم کام کریں گے۔جو تشدد کے ذمے دار ہیں ،ان پر پابندیاں عاید کرنے کے لیے اقدامات کریں گے۔