ڈھاکا(ایجنسیاں) گستاخانہ فلم اورخاکوں کیخلاف سوئٹزر لینڈ‘ فرانس‘ جرمنی ‘سعودی عرب ‘ ایران ‘ ہانگ کانگ اور جنوبی امریکہ میں مظاہرے جاری ہیں۔
توہین آمیز فلم کے خلاف برازیل کے شہرساوٴپولومیں عیسائیوں اور یہودیوں نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر احتجاجی مارچ کیا ‘بنگلہ دیش میں اتوار کو ملک گیرہڑتال کی گئی۔
پولیس پر پتھراوٴکے الزام میں 40افرادکوگرفتار کرلیا گیا، ڈھاکامیں 10ہزارپولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا، چٹاگانگ میں مظاہرین نے ایک بس نذرآتش کردی۔
ادھر اوباما نے مصری صدرمحمد مرسی کو امریکی سفارتخانے کی حفاظت پر شکریہ کا خط لکھا اور گستاخانہ فلم کی مذمت بھی کی۔
دریں اثناء عرب ہیکروں نے توہین آمیز فلم کیخلاف مغربی ویب سائٹس پر حملے کئے۔
آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں بھی احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔
فرانس میں پولیس نے مظاہروں پر پابندی کی خلاف ورزی پر 21 افرادکو گرفتار کرلیا۔
ادھر امریکی صدر باراک اوباما نے گستاخانہ فلم کی مذمت کرتے ہوئے رد عمل میں معصوم لوگوں پر تشدد کو بلا جواز قرار دیا ہے ۔
تہران میں فرانسیسی سفارت خانے کے باہر سیکڑوں افرا دنے احتجاج کیا، ہانگ کانگ میں بھی ہزاروں افراد نے گستاخانہ فلم اورخاکوں کے خلاف احتجاج کیا، اس موقع پر مظاہرین نے امریکی قونصل خانے کو ایک یادداشت پیش کرنے کی بھی کوشش کی جس پر پولیس اور مظاہرین میں معمولی جھڑپ ہوئی۔
ادھر سعودی عرب کے مشرقی صوبے القطیف میں بھی سیکڑوں افرادنے احتجاجی مظاہرہ کیااورامریکاکے خلاف نعرے لگائے۔