اسلام آباد/لاہور (العربیہ ڈاٹ نیٹ) پاکستان میں یومِ عشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے موقع پر چھوٹے بڑے شہروں میں پر تشدد مظاہروں کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق جبکہ پولیس اہلکاروں سمیت دو سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ سب سے زیادہ ہلاکتیں کراچی میں ہوئیں۔
جمعہ کے روز حکومت کی جانب سے توہین آمیز فلم کے خلاف ملک بھر میں ‘یوم عشق رسول’ منانے کے اعلان کے علاوہ مختلف مذہبی وسیاسی جماعتوں نے نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں، ریلیوں اور جلوسوں کا اعلان کر رکھا تھا۔ تاہم مختلف شہروں میں صبح ہوتے ہی احتجاج اور مظاہروں کاسلسلہ شروع ہو گیا۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں سیاسی و مذہبی جماعتوں کی جانب سے گستاخانہ امریکی فلم کیخلاف بھرپور احتجاج کیا گیا کئی جماعتوں کی ریلیاں ایم اے جناح روڈ سے گزرنے کے بعد بعض مقامات پر مظاہرے پرتشدد رخ اختیار کر گئے۔
ان پرتشدد مظاہروں میں فائرنگ اور پولیس سے جھڑپوں میں 12 افراد جاں بحق اور 110 سے زائد زخمی ہو گئے۔ مشتعل مظاہرین نے سنیما، بینک، نجی و سرکاری عمارتوں، پولیس موبائل سمیت متعدد گاڑیوں اور دیگر املاک کو نذر آتش کر دیا جبکہ بعض مقامات پر لوٹ مار بھی کی گئی ہے۔ آگ بجھانے کیلئے جانے والی فائر بریگیڈ کی 2 گاڑیوں پر حملوں میں 5 فائر فائٹرز بھی زخمی ہو گئے۔
جڑواں شہروں اسلام آباد اور راولپنڈی میں مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے سبب کئی علاقے میدان جنگ بنے رہے۔ نماز جمعہ کے بعد اسلام آباد کی آبپارہ مارکیٹ سے ہزاروں کی تعداد میں مذہبی وسیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی ریلی ریڈ زون میں واقع ’ڈپلومیٹک انکلیو‘ کی جانب بڑھی تو پر تشد د مناظر بھی دیکھنے میں آئے۔ پولیس اہلکاروں نے آنسو گیس کی شیلنگ کے ساتھ ساتھ شدید ہوائی فائرنگ بھی کی۔ مظاہرین کچھ دیر کے لیے منتشر ہونے کے بعد ٹولیوں کی شکل میں آگے بڑھتے رہے۔
وزیر داخلہ رحمان ملک جو ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسلام آباد کی فضائی نگرانی بھی کرتے رہے کا کہنا تھا کہ وفاقی دارالحکومت میں کسی بھی ہنگامی حالت سے نمٹنے کے لیے فوج بھی ہائی الرٹ ہے۔
خیبر پختونخواہ کے دارالحکومت پشاور میں ‘یوم عشق رسول’ پر ہنگامہ آرائی کے دوران چار سنیما گھر نذر آتش جبکہ ایک نجی ٹی چینل کا نمائندہ پولیس کی گولی لگنے سے جاں بحق ہو گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق پشاور میں مشتعل مظاہرین مختلف شاہراہوں پر نکل آئے اور باچا خان روڈ، یونیورسٹی روڈ اور صدر کے علاقوں میں ہنگامہ آرائی کا سلسلہ شروع کر دیا۔
مظاہروں کے دوران شمع سینما اور فردوس سینما کو نذر آتش کر دیا گیا جس سے آخری اطلاع آنے تک پندرہ افراد رخمی ہو چکے ہیں۔ مظاہرین نے فحش فلمیں دکھانے کے حوالے سے بدنام شمع سینما کو نذر آتش کر دیا۔
یونیورسٹی روڈ پرمظاہرین نے پولیس پر پتھراؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی۔ پولیس اور مظاہرین کے تصادم میں اے آر وائی چینل کا ایک کارکن محمد عامر جاں بحق ہو گیا۔ ٹی وی چینل کے مطابق عامر پولیس فائرنگ سے جاں بحق ہوا ہے۔
درایں اثنا کوئٹہ میں بھی احتجاج کے دوران گاڑیوں پر پتھراؤ کیا گیا۔ مشتعل مظاہرین نے ایئر پورٹ روڈ پر پتھراؤ کر کے متعدد گاڑیوں کے شیشے دیے۔ تمام چھوٹے بڑے شہروں میں کاروباری و تجارتی مراکز بند جبکہ سڑکوں پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہے۔
ادھر جمعہ کے روز ہی اسلام آباد میں قائم مقام امریکی سفیر رچرڈ ہوگلینڈ کو دفتر خارجہ طلب کر کہ احتجاج بھی کیا گیا۔ دفتر خارجہ کی طرف سے جاری کیے گئے ایک بیان کے مطابق امریکی سفارت کار سے مطالبہ کیا گیا کہ اُن کی حکومت اس گستاخانہ ویڈیو کو یوٹیوب سے ہٹانے کے فوری اقدامات کر کہ اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کرے۔ سرکاری بیان کے مطابق رچرڈ ہوگلینڈ نے امریکی انتظامیہ اور قیادت کے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اس ویڈیو کی شدید مذمت کرتے ہیں۔
احتجاج کے اعلان کے بعد گزشتہ رات ملک کے مختلف حصوں میں پٹرول پمپ اور سی این جی اسٹیشن بند کر دیے گئے جس سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ملک کے سولہ بڑے شہروں میں دہشت گردی کے خدشات کی بنا پر موبائل فون سروس بھی بند رہی، جسے رات گئے بحال کر دیا گیا۔