- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ملک کے اصل حکمراں صدر ہیں، اخوان کا سکہ نہیں چلتا: مرشد عام

قاهره (العربیہ ڈاٹ نیٹ( مصر کی حکمراں جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع نے کہا ہے کہ جماعت صدر محمد مرسی کے فیصلوں میں دخل اندازی نہیں کر رہی ہے۔ تمام فیصلے صدر مرسی خود ہی کرتے ہیں۔ ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ڈاکٹر مرسی سے صرف دو مرتبہ ملاقات کی تھی۔

لندن سے شائع ہونے والے عربی روزنامہ ‘الشرق الاوسط’ سے گفتگو کرتے ہوئے اخوان المسلمون کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر محمد مرسی ہی ملک کے اصل سربراہ ہیں۔ میں یہ بات کبھی بھی تسلیم نہیں کروں گا کہ جماعت یا اس کا کوئی لیڈر صدر کے فیصلوں میں مداخلت کرے۔ بعض حلقوں کی جانب سے مرشد عام کو ملک کا ‘حقیقی’ سربراہ قرار دیا جانا مضحکہ خیز بات ہے۔ اس کا جواب دینے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں مرشد عام ڈاکٹر محمد بدیع نے کہا کہ اخوان المسلمون کی حکومت وجود میں آئے ابھی چند ہفتے ہوئے ہیں اور ایک مخصوص حلقے نے جماعت کو بدنام کرنے کی ٹھان لی ہے۔ ہم ابھی آغاز کر رہے ہیں۔ ہمارے پیش نظر ملک میں قانون کی حکمرانی، مساوات اور عدل و انصاف کا قیام، انسانی حقوق، شہری آزادیوں کا احترام، عوام کو خواص پر ترجیح جیسے اقدامات ہیں۔ ہم اسی قاعدے کلیے کے تحت حکومت کر رہے ہیں۔

مسیحی برادری کے اخوان المسلمون کی حکومت بارے تحفظات سے متعلق سوال کے جواب میں ڈاکٹر محمد بدیع نے کہا کہ عیسائی ہمارے بھائی ہیں، تاہم ان کی اور ہماری ذمہ داریاں الگ الگ ہیں۔ اخوان المسلمون کے مصر کی مسیحی برادری کے ساتھ خوشگوار تعلقات ہیں۔ صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے مسیحی برادری کے تحفظات دور کرنے کے لیے ایک عیسائی سیاست دان کو اپنا معاون خصوصی مقرر کیا ہے۔ ایسا قبطیوں کے کہنے پر نہیں کیا گیا بلکہ یہ ریاست کا نظم ونسق چلانے کے لیے ضروری تھا۔

شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف جاری عوامی بغاوت کی تحریک کی حمایت کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد بدیع نے صدر اسد کو ظالم شخص قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شام کے بارے میں اخوان المسلمون کا بھی وہی موقف ہے جو صدر محمد مرسی کا ہے۔ صدر نے گذشتہ مہینے تہران میں غیر وابستہ ممالک تحریک ‘نام’ کے موقع پر شام کے بارے میں جو کچھ کہا وہ پوری مصری قوم کی آواز ہے۔ ہم صدر بشار الاسد سے اقتدار چھوڑنے اور عوام کے قتل عام کا سلسلہ بند کرنے کا مطالبہ کرتے رہیں گے۔