- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

گستاخانہ فلم کا پروڈیوسر اسرائیلی نکلا، فلم کی تیاری کے بعد روپوش

لندن (العربیه) امریکا میں نائن الیون دہشت گردی کی گیارہویں برسی کے موقع پر امریکی پادریوں اور قبطیوں کی بنائی گئی کستاخانہ فلم کی ریلیز کے خلاف جہاں عالم اسلام میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے، وہیں یہ انکشاف بھی ہوا ہے کہ اس متنازعہ فلم کا پروڈیوسر ایک اسرائیلی نژاد امریکی یہودی ہے، جو گذشتہ منگل سے روپوش ہے۔

 

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے سام باسل نامی اس پروڈیوسر کی تصویر کے حصول کی بہت کوشش کی ہے۔ تاہم اس کی تصویرنہیں مل سکی ہے۔ البتہ یہ اطلاعات ملی ہیں باون سالہ سام باسل امریکی ریاست کیلیفورنیا کا رہنے والا ہے اور وہ وہیں پر روپوش ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ امریکی یہودی سام باسل کا لبنان کے معروف باسل خاندان سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سام باسل ایک اسرائیلی نژاد یہودی ہے، جبکہ لبنان میں باسل خاندان مسیحی برادری سے تعلق رکھتا ہے۔ موجودہ وزیر برائے پانی وبجلی جبران باسل وزیر اعظم نجیب میقاتی کی کابینہ میں شامل ہیں۔ جبران باسل انگریزی میں اپنا نام Bassil کے حروف کے ساتھ لکھتے ہیں جبکہ فلم پروڈیوسر کا نام کیلیفورنیا میں Bacile کے حروف تہجی کے ساتھ ملا ہے۔

العربیہ کی ملعون پروڈیوسر کے بارے میں جمع کردہ معلومات کے مطابق سام نے اسرائیل سے شائع ہونے والے عبرانی اخبار ‘ہارٹز’ اور امریکی روزنامے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ سے ٹیلیفون پر بات چیت بھی کی ہے۔ دونوں اخبارات نے سام باسل کے ٹھکانے کو صیغہ راز میں رکھا ہے تاہم اس سے ہونے والی بات چیت کے کچھ اقتباسات شائع کیے ہیں۔

معاصر اخبارات سے بات کرتے ہوئے سام باسل نے متنازعہ فلم کے انگریزی سے مصری لہجے میں ڈبنگ سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔ اس فلم کی 13 منٹ کی فوٹیج سماجی رابطوں کی ویڈیو سائٹ ‘یو ٹیوب’ پر بھی نشر کی جا چکی ہے۔ یو ٹیوب کی انتظامیہ نے اس پر ردعمل آنے کے بعد انٹرنیٹ سے ہٹانے کا بھی اعلان کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق فلم پروڈیوسر سام باسل خود بھی مصری عربی لہجے سے واقف ہے کیونکہ فلم کا انگریزی سے عربی میں نہایت مہارت کے ساتھ ترجمہ پیش کیا گیا ہے۔ فلم کا انگریزی مسودہ (اسکرپٹ) تو سام باسل نے خود ہی تحریر کیا ہے جس کی تیاری پر اسے تین ماہ کا عرصہ لگا۔ اس فلم میں اس کے ساتھ 59 فن کاروں 45 دوسرے افراد نے پس کیمرہ کام کیا ہے۔

گستاخانہ فلم گذشتہ برس کے آخر میں مکمل کر لی گئی تھی اور اسے امریکا میں ہالی وڈ کے ایک تھیٹرمیں چند لوگوں کو دکھایا بھی گیا تھا۔ تاہم اسے منظر عام پر نہیں آنے دیا گیا۔ اس کی تیاری پر پانچ ملین ڈالرز کی لاگت آئی ہے اور یہ ساری رقم امریکا کے 100 یہودیوں سے جمع کی گئی۔

معروف گستاخ رسول امریکی پادری ٹیری جونزبھی اس فلم کا ایک اہم کردار ہے۔ جس عرصے میں یہ فلم اپنی تیاری کے مراحل میں تھی۔ اس دوران کم بخت جونز قرآن کریم کے نسخے نذرآتش کرنے کی دھمکیاں دیتا رہا ہے۔ پچھلے سال نائن الیون کی دسویں برسی کے موقع پراس نے قرآن کریم کے نسخے جلانے کا اعلان کیا تھا اور اس سال اسی کے تعاون سے اسلام اور پیغمبر اسلام کی شان میں ایک نئی گستاخی کی گئی ہے۔

کمال قبیسی