کراچی/اسلام آباد(بی بی سی+جیو نیوز) ملک میں جاری حالیہ بارشوں کے دوران مکانات کی چھتیں، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے کے واقعات میں رات 12 بجے کے بعد سے اب تک 23 افراد جاں بحق ہوگئے۔
گزشتہ روز بھی بارشوں کے باعث چھتیں گرنے اور کرنٹ لگنے سمیت مختلف واقعات میں 36 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔
ڈیرہ غازی خان کے علاقے چوٹی بالا کے علاقے میں گھر کی چھت گرگئی جس کے نتیجے میں بہن بھائی جاں بحق ہو گئے۔
صوابی کے علاقے مہاجر کیمپ میں ایک گھر کی چھت گرنے سے 10فراد جاں بحق ہوگئے جس میں 6 بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔
بارشوں کے دوران جیکب کے گوٹھ خدا بخش میں چھت گرنے سے باپ بیٹا جا بحق ہوگئے، کشمورکے گوٹھ بگن میں چھت گرنے سے خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے۔
پنجاب کے شہر پاکپتن کے علاقے چوک آرائیاں میں مکان کی چھت گر نے 3 افراد ہلاک اور 4 زخمی ہوگئے۔
صادق آباد کے علاقے احمد پور لمہ میں بھی چھت گرنے سے ایک شخص جاں بحق ہوگیا۔
ادھر پنجاب کے ضلع راجن پور میں کوٹ مٹھن میں مکان کی چھت گرنے سے ماں بیٹا جاں بحق اور تین افراد زخمی ہوگئے۔
اتوار کے روز بھی بارشوں کے دوران مختلف حادثات میں پنجاب میں 31 اور سندھ میں 5 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
مون سون سے سیلاب تو نہیں برساتی ریلوں کا خطرہ
پاکستان کے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ ظفر قادر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ’ملک کے بعض علاقوں میں سیلاب تو نہیں مگر برساتی ریلوں کا خطرہ ہے‘۔
بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس سال مون سون کا آغاز کچھ دیر سے ہوا ہے اور اس کی وجہ سے اب تک انہتر افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ان کے مطابق ’اس سال مون سون انیس اگست سے شروع ہوا اور اب تک جاری ہے یعنی تین ہفتے سے مون سون چل رہا ہے۔‘
ظفر قادر نے مزید کہا کہ ’ان بارشوں اور برساتی ریلوں کے نتیجے میں اب تک بد قسمتی سے انہتر اموات ہو چکی ہیں۔ ان میں سے اکتیس آزاد جموں اور کشمیر میں، تیئس خیبر پختون خوا کے صوبے میں، چار سندھ میں، چار بلوچستان اور تین دارلحکومت اسلام آباد میں ہوئی ہیں۔‘
انہوں نے باسٹھ کے قریب افراد کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی۔
املاک کو پہنچنے والے نقصانات کے بارے میں ظفر قادر نے کہا کہ ’سات ہزار کے قریب مکانات تباہ ہوئے ہیں مکمل یا جزوی طور پر‘۔
انہوں نے سیلاب کے امکانات کے بارے میں کہا کہ ’دریائی سیلاب کا تو خدشہ نہیں ہے لیکن شہری علاقوں میں برساتی ریلوں کا خدشہ ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ حیدرآباد کا شہر کل سے پانی میں ہے اسی طرح ملتان اور ڈیر غازی خان میں کافی پانی شہر میں آ گیا ہے۔
پاکستا ن کے محکمۂ موسمیات نے مزید بارشوں کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔
جنوبی پنجاب میں کوہ سلیمان کے مشرقی اضلاع یعنی ڈیرہ غازی خان، راجن پور اور رحیم یار خان میں برساتی نالوں سے آنے والے برساتی ریلوں کی اطلاعات ہیں۔
اسی طرح کراچی، حیدرآباد، ملتان، سکھر اور بعض دوسرے شہروں کو بھی برساتی ریلوں سے خطرہ ہو گا۔
ان برساتی ریلوں کے نتیجے میں ان اضلاع کے بیشتر دیہات کہ زیر آب آنے کی بھی اطلاعات ہیں۔
جیسا کہ ڈیرہ غازی خان کے گاؤں گھمن کے نوے فیصد مکانات رود کوہی سوری لُنڈ کے سیلابی ریلے کی وجہ سے جزوی اور مکمل طور پر تباہ ہونے کی اطلاع بھی ہے۔
ڈیرہ غازی خان کے ڈی سی او افتخار ساہو سے رابطہ کی بار بار کی کوشش کی گئی مگر انہوں نے مسلسل کوششوں کے باوجود جواب نہیں دیا۔
کوہ سلیمان سے آنے والے برساتی نالوں کو مقامی لوگ رود کوہی کہتے ہیں جن کی وجہ سے برساتی ریلوں کا خطرہ زیادہ ہے۔