العربیہ ڈاٹ نیٹ: شام میں انقلابی رابطہ کمیٹیوں کی جاری کردہ اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز دمشق کے علاقوں القدم، کفر بطنا اور داریا میں سرکاری فوج نے نہتے شہریوں کے خون سے ایک مرتبہ پھر اپنے ہاتھ رنگے ہیں۔ تازہ کارروائی میں سیکڑوں افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔
ادھر باغیوں کے مرکزی شہر حمص پر ہفتے کے روز وقفے وفقے سے دن بھر فضائی اور زمینی حملے جاری رہے۔ حلب سے بھی ایسے ہی حملوں اور لاشیں گرنے کی اطلاعات ملی ہیں۔
شامی اپوزیشن کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگست کا مہینہ حکومت کے خلاف انقلابی تحریک شروع ہونے کے بعد سب سے خون آشام ثابت ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگست میں سرکاری فوج کےحملوں اور پرتشدد واقعات میں کم سے کم 1606 افراد جاں بحق ہو گئے۔
ادھر برطانوی اخبار “ٹیلیگراف” نے اپنی حالیہ رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ شام کی حکومت نواز فوج جیش الحر کےخلاف مہلک ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی فوج کے جنگی ہیلی کاپٹر دیسی ساختہ تباہ کن بم اور روسی ساختہ اسحلے کا استعمال کرتے ہیں۔ اخبار لکھتا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گرائے گئے مہلک بموں سے نشانہ بننے والے انسانوں کے جسموں کے چیتھڑے اڑ رہے ہیں۔ سرکاری فوج نے ان ہتھیاروں کا پہلی دفعہ حلب شہر میں باغیوں کو شکست دینے کے لیے استعمال کیا تھا اور اب ان ہتھیاروں کا دیگر شہروں میں بھی بے دریغ استعمال جاری ہے۔