- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اکیسویں تقریب ختم بخاری سے مولانا نظرمحمدکا خطاب

ممتاز سنی سرگرم کارکن اور سابق رکن پارلیمنٹ مولانا نظرمحمد دیدگاہ نے ستائیس رجب 1433ہ۔ق کی تقریب دستاربندی دارالعلوم زاہدان سے خطاب کرتے ہوئے کہا: حقیقی مؤمن ایمان لانے کے بعد صبر واستقامت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور صرف زبان سے ایمان لانے پر اکتفا نہیں کرتے۔

ایرانی بلوچستان کے بااثر اور ممتاز عالم دین نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: کی تلاوت سے کرتے ہوئے کہا: جب رسول اللہ ﷺ نے حق کا اعلان فرمایا تو سارے دوست حتی کہ قریبی رشتے دار بھی دشمن بن گئے۔ ایمان کی راہ میں ’مجنون‘ بننے کی ضرورت ہے۔ ایمان کے بعد ’صدیق‘ بننا پڑتاہے۔ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر اہل ایمان کا تذکرہ آیاہے کہ کس طرح حق کی راہ میں انہیں اذیتیں دی گئیں۔ لیکن انہوں نے ہرگز حق کا دامن نہیں چھوڑا۔

بات آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے مزیدکہا: آج دنیائے کفر وشرک نے ہر طرف سے ہمارا گھیراؤ کیا ہے۔ امریکا نے افغانستان پر قبضہ کیا ہوا ہے اور وہاں اپنے دشمنوں سے لڑتا رہتاہے۔ میں افغان قوم کو ان کی بہادری و استقامت پر خراج تحسین پیش کرتاہوں۔ اس عظیم قوم نے بیس سال تک سوویت یونین کا مقابلہ کیا، اب دس سالوں سے امریکا اور نیٹو کیخلاف بر سرپیکار ہے۔ افغان قوم اعلائے کملۃ اللہ کیلیے لڑرہی ہے۔

مولانا نظرمحمد نے کہا: اسلام کے ابتدائی شیدائی غرباء اور مساکین تھے۔ جب آپﷺ نے فرمایا: ’قولوا لاالہ الا اللہ تفلحوا‘، تو اکٹھے ہوئے لوگ سب بکھر گئے۔ حضرت محمدﷺ کے آس پاس صرف غرباء مکہ رہ گئے۔ اکثر شہدا بھی غریب تھے۔ مالدار لوگ کم ہی قربانی کیلیے تیار ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی مالدار اس کیلیے تیار ہو اور اپنی جان و مال اللہ کی راہ میں خرچ کردے تو اسے مبارکباد دینی چاہیے۔ فرعون کے جادوگروں نے جب حق کو دیکھا اور موسی علیہ السلام پر ایمان لائے تو کسی دھمکی نے ان کا ایمان متزلزل نہیں کیا اور چند لمحے ہی میں وہ صبر و استقامت کے پیکر بن گئے۔ اگر ہم بھی سچے مسلمان بن جائیں تو کسی سے نہیں ڈریں گے، چونکہ جس ذات پاک نے فرعون اور اس کے آدمیوں کو ہلاک کیا، وہ ہماری بھی مدد کرے گی۔

انہوں نے حاضرین کو مخاطب کرکے مزید گویا ہوئے: آپ کیا سوچتے ہیں ہمارا کوئی نہیں؟ ہمارے پاس محمدعربی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور ہم ان کی امتی و غلام ہیں۔ ہم مدرسہ توحید اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے مدرسے کے شاگرد ہیں۔ مدرسہ توحید یعنی صرف اللہ کی عبادت کرنا اور اسی سے مدد مانگنا غیر سے نہیں۔

سابق رکن پارلیمنٹ نے مزیدکہا: اگر ہم واقعی رسوک اللہ ﷺ کے پیروکار ہیں تو ہمیں نبی کریمﷺ کی سیرت کی پیروی کرنی چاہیے۔ آپﷺ کی پوری زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے اور آپﷺ ہمارے اسوہ ہیں۔ ہمیں شخصیات کی عبادت نہیں کرنی چاہیے بلکہ اللہ وحدہ لاشریک لہ کی عبادت کرنی چاہیے۔ جب آپﷺ کا وصال ہوا تو سیدنا ابوبکر الصدیقؓ نے اعلان فرمایا: ’و مامحمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل افان مات او قتل انقلبتم علی اعقابکم‘، جب فاروق اعظمؓ نے یہ سنا تو فورا خاموش ہوئے۔ وہ حق کے سامنے مجادلہ نہیں فرماتے تھے۔

انہوں نے مزیدکہا: آئیں یقین کا ایمان لائیں؛ خیر وشر، عزت وذلت سب اللہ کے قبضے میں ہیں۔ یہ ہمارا ایمان ہونا چاہیے۔ اللہ نہ کرے دشمن ہمارے وطن پر حملہ کرے؛ اگر ایسا ہوا تو ہم خاموش تماشائی نہیں بنیں گے، بلکہ اپنے ملک کے دفاع کیلیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کریں گے۔ جہاد فرض ہوجائے گا اور ہم اپنا وطن دشمن کے حوالے نہیں کریں گے۔ غداروں کی کوئی عزت نہیں ہے۔ جو اپنے دین و مذہب سے غداری کرتے ہیں دنیا میں ان کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ فارسی شاعر کہتاہے: جو دنیا کی خاطر اپنا دین بیچتا ہے اس کا دل ہرگز خوش نہیں ہوگا۔

ؔ ضلع ایرانشہر کے علاقہ ’دامن‘ کے ممتاز دینی ادارے کے مہتمم نے مزیدکہا: اللہ تعالی کا ارشاد ہے: ’ان اللہ اشتریٰ من المؤمنین انفسہم و اموالہم بان لہم الجنۃ‘، اللہ نے مؤمنوں سے ان کی جانیں اور ان کا مال خرید لیے ہیں اور اس کے بدلے میں انہیں جنت عطا فرمائے گا۔ ہماری قیمت جنت ہے۔ چائے کا ایک کپ یا تیل کا کوئی ڈبہ ہماری قیمت نہیں ہوسکتے۔ توکسی کم قیمت والی چیز کے عوض بک نہ جائیں۔ اللہ پر بھروسہ کرکے استقامت کریں۔

آخر میں مولانا دیدگاہ نے حاضرین کو صبر و استقامت اور ہر طرح کی صعوبتوں کیلیے تیار رہنے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا: ہر کام میں دعا کافی نہیں ہے؛ اگر ایسا ہوتا نبی کریمﷺ ہرگز بدر وحنین اور احد و احزاب میں لڑائی کیلیے نہیں نکلتے اور دعا ہی پر اکتفا کرتے۔ ہمیں دعا کے ساتھ ساتھ مجاہد بھی ہونا چاہیے۔

SunniOnline.us