- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

فاروق اعظم کے بارے میں مولانا احمد کابیان

استاذالحدیث دارالعلوم زاہدان مولانا احمدناروئی نے اپنے بیان کا آغاز قرآنی آیت: «مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُواْ يَعْمَلُونَ» کی تلاوت سے کرتے ہوئے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اونچے مقام خاص کر خلیفہ ثانی حضر ت عمررضی اللہ عنہ کے حکومتی اور منصفانہ اقدامات کے بارے میں گفتگو کی۔

اکیسویں تقریب ختم بخاری و دستاربندی دارالعلوم زاہدان کے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا: اللہ تعالی ایک حکیم خالق ذات کی حیثیت سے بنی نوع بشر کو اکیلا نہیں چھوڑتا ہے، اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیشہ انسان کو تین طریقوں سے ہدایت و رہ نمائی فرمائی ہے؛ ۱۔ عقل کے ذریعے جس کی روشنی میں بندہ ہر چیز کو تجزیہ کرسکتاہے۔ اللہ تعالی نے عقل کو قابل احترام قرار دیاہے۔ ۲۔ دوسرا وحی اور کتاب اللہ جو انسان کو ملا اعلی تک پہنچاتاہے۔ ۳۔ تیسرا طریقہ ’رجال اللہ‘ ہے جو کتاب اللہ کے ساتھ مل کر بندے کو کامیابی کی راہ دکھاتاہے۔ انبیائے کرام، محدثین و فقہا سب نے انسان کے فلاح و کامیابی کیلیے دن رات ایک کرکے محنت کی۔

ادارتی امور میں مہتمم دارالعلوم زاہدان کے نائب نے مزیدکہا: انبیا کے بعد سب سے زیادہ خلفائے راشدین نے انسانی معاشرے کی نجات کیلیے کوشش ومجاہدت کی۔ خاص کر ابوبکرالصدیقؓ جس نے آپﷺ کی وفات کے بعد پوری بہادری کے ساتھ اعلان فرمایا: ’اینقص الدین و انا حی‘ یہ ہوہی نہیں سکتا کہ ابوبکر زندہ ہو اور اسلام کو کوئی نقصان پہنچے۔

مولانا ناروئی نے خلیفہ ثانی حضرت عمرؓ کے فضائل بیان کرتے ہوئے مزید گویا ہوئے: حضرت فاروق اعظمؓ نے حکمرانی کے میدان میں ایسے قوانین وضع کی جو کئی صدیاں گزرنے کے بعد بھی اگر کوئی حقیقی معنی میں جمہوریت ناٖفذ کرنا چاہے تو اسے عمری قوانین کی پیروی کرنی پڑے گی۔

انہوں نے خلیفہ ثانی کے بعض سوانح حیات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا: حضرت عمرؓ قریشی تھے۔ آٹھویں پشت پر آپ کا نسب نبی اکرمﷺ کے نسب سے لگتاہے۔ آپؓ نے زندگی میں کئی شادیاں کیں، آپ کی بیویوں میں ایک حضرت ام کلثوم بنت علی و فاطمہؓ تھیں۔ حضرت فاروق اعظم کے تیرہ بیٹے اور بیٹیاں تھیں جن سے 9بیٹے اور4 بیٹیاں تھیں۔

ممتاز سنی عالم دین نے مزیدکہا: جب بھی حضرت عمر سفر پر جاتے تو کسی کو اپنا نائب مقرر فرماتے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ آپؓ کے مشیراعلی تھے۔ ان حضرات میں بہت ہی اچھے تعلقات تھے اور باہمی محبت و خیرخواہی کی بنا پر امت مسلمہ کی خدمت میں مصروف تھے۔ جب حضرت عمرؓ شہادت سے سرفراز ہوئے تو حضرت علیؓ کسی خوف و جھجھک کے بغیر (البتہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں کوئی دشمنی نہیں تھی جیسا کہ بعض انتہاپسند جاہل لوگ دعویٰ کرتے ہیں ) حضرت عمرؓکے جسدخاکی کو مخاطب کرکے کہا: اللہ سے میری دعا ہے آپ کو آپ کے دو دوستوں کے ساتھ محشور فرمائے؛ چونکہ میں نے کئی مرتبہ آپﷺ سے سنا کہ ابوبکر وعمر کا نام ایک ساتھ لیا کرتے تھے۔ یہ ہے صحابہ کی پرفخر زندگی جو تواضع و بھائی چارہ اور محبت سے بھری تھی۔

’فاروق‘ آپؓ کا لقب تھا جو دربار نبوی ﷺ سے آپ کو ملا تھا۔ آپؓ نے 63برس بابرکت عمر پائی اور دس سال سے زائد کا عرصہ خلافت کی۔ آپ کثرت سے تلاوت فرماتے اور قرآن پاک ان کے قوانین کی بنیاد تھا۔ آپ انتہائی متواضع اور درویش صفت آدمی تھے۔ خوف خدا آپ کی پہچان تھی۔

استاذ الحدیث دارالعلوم زاہدان نے مزیدکہا: آج کل پوری دنیا ’انصاف‘ و برابری کو ترس رہی ہے۔ انصاف کا مطلب حضرت عمرؓ کے نزدیک یہ تھا کہ امتیازی سلوک اور طبقاتی نظام کا خاتمہ ہو، غریب و مالدار سب کو قانون اور حاکم تک برابر رسائی حاصل ہو۔ ایک مرتبہ مصر کے گورنر عمروبن العاص نے آپ کے بیٹے عبدالرحمن پر گھر میں حد لگائی تاکہ خلیفہ کا مقام محفوظ ہو۔ جب آپؓ کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا: میرے اور دوسروں کے بیٹوں کے درمیان کیا فرق ہے؟ حد سرعام لگائی جانی چاہیے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ گورنرز کے تقرر کیلیے مخصوص قوانین و اصول کی پیروی فرماتے۔ آج کی دنیا میں کسی کو چارہ نہیں مگر یہ کہ آپؓ کے قوانین کی پیروی کرے جو قرآن وسنت پر مبنی ہیں۔ آپؓ کے بعض اصول یہ تھے:
1- نفاذ کی طاقت رکھتا ہو؛
2- دیانتدار و امین ہو؛
3- علم وتخصص سے بہرہ مند ہو؛
4- بصیرت سے وافرحصہ رکھتاہو؛
5- شفقت و رحم کرنے والا ہو؛
6- خود عہدے کے درپے نہ ہو؛
7- گورنرز کی جائیداد و پیسوں کی گنتی، ذمہ داری سنبھالنے سے پہلے اور بعد؛
8- افراد کے امن و حرمت کی خیال داری۔ آپ کسی کو اس کے بھائی یا بیٹے کے جرم کی وجہ سے سزا نہ دیتے۔
9- آپ ہر علاقے میں مقامی افراد پر بھروسہ کرتے اور ان سے کام لیا کرتے تھے۔ آپ اقلیتوں کے حقوق کا بہت خیال رکھتے۔
10- بیان و عقیدے کی آزادی خلیفہ ثانی کی حکومت کے اصول میں شامل تھی۔ کئی کہانیاں اس بات کی گواہی دیتی ہیں۔
11- آپؓ سابق ذمے داروں کا احترام کرتے۔ ان کے تجربوں سے استفادہ کرتے تھے۔

مولانا احمد نے آخر میں کہا: حضرت عمرؓ نے اپنے ماتحت حکام کے لیے چند ذمہ داریاں متعین کی تھی؛ 1- اموردین کو قائم رکھنا۔ 2- اسلامی احکام کو پھیلانا۔ 3- قیام صلاۃ کیلیے کوشش کرنا۔ آپ ایام حج میں عوامی شکایات سنتے اور فرماتے اگر کسی کو میرے کارگزاروں سے کوئی شکایت ہے تو میرے پاس آئے تاکہ اس کا حق لے لوں۔ آپؓ برابری سے کام لیتے اور فرماتے میرے نزدیک عرب و عجم میں کوئی فرق نہیں ہے اور سب کو برابر کے حقوق ملیں گے۔

SunniOnline.us