دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنسیاں) شامی شہر حماہ کے القبیر کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک ٹیم نے بتایا ہے کہ اس گاؤں میں جا بجا جھلسنے والے افراد کی بو محسوس کی جا سکتی ہے جب کہ جھلسے ہوئے انسانی اعضا بھی مختلف مقامات پر دیکھے گئے ہیں۔ القبیر گاؤں میں شامی فوج اور اجرتی قاتلوں نے قتل عام کے ذریعے 80 سے زائد افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔
القبیر کا دورہ کرنی والی عالمی مبصرین کی ٹیم اس علاقے تک رسائی میں پہلی بار کامیاب ہوئی ہے۔ اس سے قبل مبصرین کی جانب سے شکایت کی گئی تھی کہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے انہیں القبیر تک رسائی نہیں دی جا رہی ہے۔ مبصرین کا یہ بھی کہنا تھا کہ عام شہری بھی ان سے کہہ رہے تھے کہ وہ القبیر کا دورہ نہ کریں کیوں کہ وہاں ان کی زندگیوں کو خطرہ ہو سکتا ہے۔
انسانی حقوق کے کارکنان کا دعویٰ ہے کہ اس علاقے میں بشار الاسد کی حامی فورسز نے حملہ کر کے خواتین اور بچوں سمیت 78 افراد کو زندہ جلا دیا تھا۔ حکومت کا موقف ہے کہ اس واقعے میں ’دہشت گرد‘ گروہ ملوث ہیں۔
علاقے کا دورہ کرنے والی عالمی مبصر سوسان گوہش کے مطابق مقامی افراد کے بیانات میں خاصا تضاد پایا جاتا ہے۔ سوسان کا کہنا ہے کہ القبیر نامی گاؤں مکمل طور پر خالی پڑا ہے اس لیے اس واقعے کی تفصیلات کے لیے قریبی گاؤں کے افراد سے بیانات لیے گئے ہیں۔ مسٹر کوہش نے بتایا کہ اس گاؤں میں جابجا جھلسنے والے افراد کی بو محسوس کی جا سکتی ہے جب کہ جھلسے ہوئے انسانی اعضا بھی مختلف مقامات پر دیکھے گئے ہیں۔
ادھر عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے مرکزی علاقے میں باغیوں نے سکیورٹی فورسز کی ایک اہم عمارت پر حملہ کیا ہے۔ اس علاقے میں متعدد دھماکے سنے گیے ہیں۔ شامی شہر حمص سے بھی باغیوں اور سکیورٹی فورسز کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
گزشتہ روز امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے مندوب برائے شام کوفی عنان سے ملاقات کی۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس ملاقات میں کوفی عنان کے چھ نکاتی منصوبے کے ساتھ ساتھ شام میں جاری تشدد کے خاتمے کے لیے لائحہ عمل پر غور کیا گیا۔
تشدد کے تازہ واقعات میں خواتین اور بچوں سمیت 30 افراد ہلاک
سرکاری سکیورٹی فورسز کی ملک بھرمیں جاری تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں بتایا ہے شامی فورسز نے جنوبی شہر درعا میں ہفتے کی صبح سے حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی شروع کررکھی ہے۔اس میں نو خواتین اور تین بچوں سمیت سترہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔آبزرویٹری نے ایک بیان میں بتایا ہے کہ ان افراد کو شہر کے رہائشی علاقے میں ہلاک کیا گیا ہے۔
شمس نیوز نیٹ ورک (ایس این این )نے اطلاع دی ہے کہ ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں تیس افراد مارے گئے ہیں۔ان میں بیس درعا میں ہلاک ہوئے ہیں۔شہر میں سرکاری سکیورٹی فورسز نے حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی سے قبل موبائل فون سروس منقطع کردی تھی۔
عینی شاہدین نے بتایا ہے کہ دارالحکومت دمشق کے وسطی علاقے میں جمعہ کو پہلی مرتبہ باغی جنگجوؤں اور سرکاری فوجیوں کے درمیان جھڑپیں ہوئی تھیں اور اس دوران کئی گھنٹوں تک دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہی تھیں۔سرکاری فورسز نے وسطی شہر حمص کے مختلف علاقوں میں بھی توپخانے سے گولہ باری کی ہے اور سرکاری فوجیوں نے شہر پر تین اطراف سے دھاوا بولنے کی کوشش کی ہے۔
شامی آبزرویٹری کی اطلاع کے مطابق درعا میں ہلاکتوں کے علاوہ گذشتہ روز ملک بھر میں تشدد کے واقعات میں چوالیس شہری مارے گئے تھے۔ادلب ،دمشق ،دیر االزور ،حمص اور درعا میں پچیس فوجی بھی مارے گئے تھے۔
ادھر استنبول میں شامی قومی کونسل (ایس این سی ) کے ارکان کا ایک اجلاس ہوا ہے جس میں برہان غلیون کی جگہ نئے صدر کے انتخاب پرغور کیا گیا۔ذرائع کے مطابق اسلام پسندوں ، لبرلز اور قوم پرستوں کے لیے متفقہ قابل قبول امیدوار کے نام کا جائزہ لیا گیا ہے۔ان ذرائع کے مطابق ایس این سی کی ایگزیکٹو کے رکن اور کرد لیڈر عبدالباسط سیدہ کے نام پر اتفاق رائے ہوسکتا ہے۔