زاہدان(سنی آن لائن)خطیب اہل سنت زاہدان شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے حالیہ افغان حکومت اور امریکا کے درمیان منعقدہ ’’سٹریٹجک معاہدہ‘‘ پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے افغان قوم کے مفادات کے خلاف قرار دیا۔ انہوں نے ایرانی جیلوں میں جبرا قیدیوں کی داڑھیاں منڈوانے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔
جامع مسجد مکی زاہدان میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے ممتاز سنی عالم دین نے کہا: کسی بھی نظام حکومت کی کامیابی کا راز اس کی صحیح پالیسیوں میں ہے؛ کامیاب ریاستوں کو کسی قوت سے معاہدہ منعقد کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے۔ عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے حصول کیلیے کوشاں ہیں۔ امریکا ہرگز افغانستان کے خیرخواہ نہیں ہے، نہ ہی چین اور روس ایران کے سچے دوست ہیں۔
انہوں نے مزیدکہا: بنیادی طور پر ہرحکومت کو اپنی قوم کے مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔ دنیا میں مستحکم حکومت وہی ہے جو عوام کا دل جیتنے میں کامیاب ہو اور اپنے مخالفین سے ڈائیلاگ کے ذریعے معاملات طے کرے۔ کوئی بھی حکومت زورِبازو اور بندوق کے نوک پر استحکام نہیں پاسکتا، چاہے یہ حکومت اسلامی ہونے یا سیکولر ہونے کا دعوی کرے۔ مذہبی و غیرمذہبی حکومتوں کی بقا کا راز لاؤلشکر میں نہیں ہے۔ افغانستان بھی ایسا ہی ہے، افغانستان کی حاکمیت کی بقا اس وقت ممکن ہے جب عوام رفاہی و فلاحی نیز امن کے مسائل سے دوچار نہ ہوں۔
خطیب اہل سنت زاہدان نے مزیدکہا: ہم نے مصر اور یمن کے آمر حکام کا انجام دیکھا اور جو کچھ شام میں ہورہاہے وہ بھی نظر سے اوجھل نہیں ہے؛ تمام ممالک میں آمر حکمران اپنے عوام سے خوفزدہ ہیں اور ایسے ملکوں میں لوگ بھی عدم سکون کا شکار ہوتے ہیں۔ تمام اقوام کو آزاد ہونی چاہیے۔ حکام عوام کی بات سنیں۔ افغانستان میں استحکام مشرق و مغرب کی محض حمایت سے حاصل نہیں ہوتا بلکہ عوام کا دل جیتنا پڑے گا۔ افغان حکومت کو ان گروہوں سے مذاکرات کرنا چاہیے جو غیرملکی افواج کی موجودگی کیخلاف اسلحہ ہاتھ میں لے چکے ہیں اور قابضوں کیخلاف لڑرہے ہیں۔
حضرت شیخ الاسلام نے مزیدکہا: افغانستان کا تعلق مغرب یا چین و روس سے نہیں ہے بلکہ یہ ملک افغان قوم کا ہے۔ اٖفغان قوم کا اختلاف ایک داخلی مسئلہ ہے؛ افغان حکام کو فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے تا کہ صلح کی راہ ہموار ہو۔ افغان، پاکستانی اور ایرانی اقوام اگر داخلی انتشار کا شکار نہ ہوں تو انہیں کسی بھی سپرپاور سے سٹریٹجک معاہدہ کرنے کی ضروت نہیں پڑتی۔ پھانسی اور کشت و خون سے نفرت پھیلتی ہے۔ گزشتہ ہفتہ اسی مسئلے کی جانب میرا اشارہ تھا کہ پاکستانی حکام کو بلوچ مخالفین اور مزاحمت کاروں کی بات سننی چاہیے، فریقین افہام و تفہیم سے اپنے مسائل حل کریں۔ کسی بھی اسلامی ملک میں غیرملکی افواج کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
ایرانی جیلوں میں داڑھی منڈوانا اسلامی تعلیمات کیخلاف اور طاغوتی عمل ہے
خطیب اہل سنت زاہدان نے اپنے بیان کے ایک دوسرے حصے میں کہا: ملک کی جیلوں سے ہمیں ایسی رپورٹس اور شکایات موصول ہوتی رہی ہیں کہ جیل حکام زبردستی سے قیدیوں کی داڑھیاں منڈواتے ہیں۔ یہ اسلامی شریعت کیخلاف کام ہے۔ سابق رجیم میں شاہ کے اہلکاروں کا شیوہ یہی تھا کہ علما اور داڑھی والوں کو گرفتار کرتے ہی ان کی داڑھیاں منڈواتے چنانچہ انقلاب سے پہلے مرشداعلی آیت اللہ خامنہ ای کی داڑھی بھی بیرجند جیل میں کاٹ دی گئی۔
اس شرمناک عمل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ابھی تک طاغوتی نظام کی بعض نشانیاں اور سرگرمیاں ملک میں موجود ہیں۔ داڑھی رکھنا اسلام میں سنت موکدہ قریب واجب ہے اور بعض علما نے اسے واجب ہی قرار دیاہے۔ یہ افسوسناک بات ہوگی کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے اہلکار داڑھی سے دشمنی کریں۔ جب سپریم لیڈر، شیعہ مراجع اور علما سمیت اہل سنت کے علما داڑھی والے ہیں پھر ملک کی جیلوں میں داڑھی رکھنا کیوں منع ہے؟
مولانا عبدالحمید نے کہا: عدلیہ کے سربراہ سمیت متعلقہ اعلی حکام سے ہمارا مطالبہ ہے کہ ایسے کاموں کے سدباب کیلیے فوری اقدامات اٹھائیں۔ داڑھی رکھنا ایک شرعی و اسلامی عمل ہے اور سرور کونین محمدمصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی مبارک سنت ہے۔