’کردپریس نیوزایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق عالمی بک فیئر کے عہدیداروں نے ’آراس کردستان‘، خراسان کے ’حافظ ابرو‘ اور صوبہ فارس کے ’ایلاف‘ نامی پبلکیشنز کے اسٹالز کو جمعرات دس مئی کی صبح سے اگلے دن تک بند رکھا۔
آراس کردستان پبلکیشنز کے ڈائریکٹر ’سعدی سجادی‘ نے کردپریس کو بتایا: گزشتہ ہفتے کے اتوار سے عالمی بک فیئر کے ذمے داروں نے ہمیں بعض کتابوں کی رونمائی پر نوٹیفکیشنز دینا شروع کردیا جن میں ’تاریخ سیاسی کرد‘، ابن القیمؒ کی کتاب ’امثال قرآنی‘ اور کمال روحانی کی ’معاصر دین سوزی‘ کی کتابیں شامل ہیں۔ حالانکہ یہ تمام کتابیں ایران کی وزارت ’فرہنگ و ارشاد‘ کی سرکاری اجازت سے طبع اور شائع ہوچکی ہیں۔
آراس کردستان کے ڈائریکٹر نے مزیدکہا: تہران کے عالمی بک فیئر کے کوئی عہدیدار ہمارے اسٹالز کی بندش کے حوالے سے وضاحت دینے پر تیار نہیں۔ 1200ملکی پبلشرز اور کلچرل اداروں کے اسٹالز سے صرف تین اہل سنت ناشروں کے اسٹالز بند کردیے گئے۔
یادرہے اس سے قبل تہران کے عالمی بک فیئر کے عہدیداروں نے دو ممتاز سنی پبلکیشنز (صدیقی اور فاروق اعظم پبلکیشنز) کو کتب میلے میں اسٹال دینے سے انکار کردیاتھا، حالانکہ مذکورہ ناشروں نے وقت پر رجسٹریشن کیلیے کوائف جمع کروایا تھا۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان