’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ’صدیقی‘ اور ’فاروق اعظم‘ پبلشرز ایران کے دو ممتاز اور سرگرم ناشر ہیں جو ایرانی اہل سنت کیلیے کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ ان کی کتابوں کی نمائش پر اس حال میں پابندی لگادی گئی ہے کہ مذکورہ ناشروں نے مقررہ وقت پر رجسٹڑیشن کروایا تھا۔
صدیقی و فاروق اعظم پبلشرز کی اکثر کتابیں سنی دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، اس لیے طلبہ کو کتب کے حصول کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
یاد رہے صوبائی بک فیئرز میں بھی سنی پبلشرز کو سخت پابندیوں کا سامنا ہوتاہے اور بعض ناشروں کے علاوہ عام طور پرسنی پبلشرز کو کتابون کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جو سنی برادری کی ثقافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کو شش ہے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان