’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ’صدیقی‘ اور ’فاروق اعظم‘ پبلشرز ایران کے دو ممتاز اور سرگرم ناشر ہیں جو ایرانی اہل سنت کیلیے کتابیں شائع کرواتے ہیں۔ ان کی کتابوں کی نمائش پر اس حال میں پابندی لگادی گئی ہے کہ مذکورہ ناشروں نے مقررہ وقت پر رجسٹڑیشن کروایا تھا۔
صدیقی و فاروق اعظم پبلشرز کی اکثر کتابیں سنی دینی مدارس کے نصاب میں داخل ہیں، اس لیے طلبہ کو کتب کے حصول کے سلسلے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔
یاد رہے صوبائی بک فیئرز میں بھی سنی پبلشرز کو سخت پابندیوں کا سامنا ہوتاہے اور بعض ناشروں کے علاوہ عام طور پرسنی پبلشرز کو کتابون کی نمائش کی اجازت نہیں دی جاتی ہے جو سنی برادری کی ثقافتی سرگرمیوں کو محدود کرنے کی کو شش ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…