اسلام آباد(خبرايجنسياں) سپریم کورٹ آف پاکستان نے وزیراعظم کو توہین عدالت کیس میں مجرم قرار دیتے ہوئے عدالت برخاست ہونے تک کی سزا دی۔ عدالت کے برخاست ہونے کے بعد وزیراعظم کمرہ عدالت سے باہر نکلے۔
توہین عدالت کے کسی مقدمہ میں دی جانے والی سزاؤں میں یہ سب سے کم سزا ہے۔ توہینِ عدالت میں زیادہ سے زیادہ سزا چھ ماہ قید ہوسکتی ہے۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ وزیراعظم نے جان بوجھ کر توہین عدالت کی اور صدر کے خلاف خط لکھنے سے انکار کیا۔
سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں اپنا فیصلہ سنایا۔ تمام ججز کی رائے کے بعد حتمی مسودہ تیار کیا گیا جس پر تمام جج صاحبان نے دستخط کئے۔
وزیراعظم نے نہایت خندہ پیشانی سے عدالت کا فیصلہ سنا اور اپنے وکیل بیرسٹر اعتزاز احسن کا ساتھ مشاورت کی اور وہیں اس بات کا اعلان کیا کہ وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی بھی غیر آئینی اور غیر مہذب اقدام نہیں اٹھایا جائے گا۔
وزیراعظم کو آئین کی دفعہ تین کے تحت توہین عدالت کا مجرم قرار دیا گیا۔ اس سے قبل جب وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی سپریم کورٹ آف پاکستان پہنچے تو ان کے ہمراہ پوری کابینہ اور سندھ اسمبلی کے ارکان کی بہت بڑی تعداد موجود تھی۔ سپریم کورٹ پہنچنے پر وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر پھول نچھاور کئے گئے۔ اس موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ وزیراعظم پیدل سپریم کورٹ پہنچے ان کے ہمراہ رحمان ملک اور دوسرے وزرا موجود تھے۔
گزشتہ روز فیصلہ جمعرات تک محفوظ کرتے ہوئے وزیراعظم کو بھی طلب کیا تھا۔ گزشتہ روز سماعت کے دوران مقدمہ کے استغاثہ اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ وزیراعظم کیخلاف ثبوت ہے نا ہی خط لکھنے سے سوئس کیسز کھل سکتے ہیں جبکہ وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے جوابی دلائل میں کہا تھا کہ صدر وفاق کا حصہ اور مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں، ابھی سوئس حکام کو خط لکھنے پر اصرار نہ کیا جائے اور وزیراعظم کو بری کردیا جائے۔