اسلام آباد(خبرايجنسياں) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ یہ دنیا کا سب سے بڑا جھوٹ ہے کہ پارلیمنٹ نے نیٹو سپلائی کی اجازت دی ہے،حکمرانوں نے نیٹو سپلائی کی بحالی کیلئے کئی بہانے تراشے مگر ہم نے واضح طور پر کہا کہ سیلاب گدلے پانی کا ہو یا صاف پانی کا ہمیشہ تباہی کا سبب بنتا ہے اس لئے جے یو آئی کسی صورت بھی زمینی یا فضائی طور پر افغانستان اسلحہ کی سپلائی کی اجازت نہیں دے گی، ملک پر امریکی بالادستی اور مغربی یہودیت مسلط کرنے پر آسانی سے حکومت نہیں کرنے دیں ایسے میں ہم گردنیں بھی مروڑ دیں گے اور ہاتھ بھی توڑ دیں گے،ملک کی کوئی اقتصادی پالیسی نہیں، وسائل میں نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے چھینا چھپٹی اور کرپشن عام ہے، سرمایہ دار اور جاگیردار صرف اپنا تحفظ کرنا چاہتے ہیں،پاکستان ایک سیکیورٹی سٹیٹ اور جنگجو ریاست بن چکی ہے، لوگ عدم تحفظ کا شکار ہیں ایسے میں حکمرانوں اور سیاستدانوں کو ملکی سیاست سے دستبردار ہو جانا چاہئے ،نعروں سے کبھی تبدیلی نہیں آتی، ہم نے پاکستان صرف نعرے کی بنیاد پر حاصل کیا اس کے پیچھے کوئی منشور نہیں تھا، نبی کریم ۖ کے کلمہ کے نعرے کے پیچھے قرآن کا منشور تھا اور اب ملک کی قسمت کو جے یو آئی کے منشور سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے حضرو میں اسلام زندہ باد کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا، فضل الرحمن نے مزید کہا کہ ماضی کے حکمرانوں کی پالیسیاں ان کے ذاتی مفادات کے تابع تھیں ملک کو جن پالیسیوں پر جنرل مشرف نے گامزن کیا تھا اس کی منظوری کسی پارلیمنٹ نے نہیں دی تھی مگر آج ہمارے اٹھارہ19ممبران اسمبلی پارلیمنٹ میں امریکی معائدوں کے خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔
جے یو آئی کے امیر نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کی تجاویزو سفارشات 6ماہ کے بعد متفقہ طور پر منظور ہوئیں، وزیراعظم کی آل پارٹیز کانفرنس میں سفارشات کو2بار متفقہ طور پر منظور کیا گیامگر ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتااور 2001کے امریکہ سے خفیہ معائدات کو منظر عام پر نہیں لایا جاتااور ہمیں کہا جاتا ہے کہ یہ زبانی ہیں اور پھر حکومت ایک چال کے ذریعے سے نئی شرائط پارلیمنٹ سے منظور کروانا چاہتی ہے مگر ہم اپنے کاندھے پر بندوق رکھ کر ہر گز چلانے کی اجازت نہیں دے سکتے ہم نے کہا ماضی کے خفیہ معادات آج سے ہی ختم تصور کر لئے جائیں اور بیرونی ایجنسیوں کے کردار بند کیا جائے یہی وجہ ہے کہ ہمارے مطالبات تسلیم کرتے ہوئے امریکہ سے نئے معائدات کی شق حذف کر دی گئی اور ہماری تجاویز کو من و عن قبول کر لیا گیا۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ گھریلو خواتین پر تشدد کا بل خوبصورت انداز میں پیش کرکے قوم کو گمراہ اور مغربی تہذیب کا دلدادہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ بیٹی سے باپ یہ نہ پوچھ سکے کہ وہ آدھی رات کو گھر کیوں آرہی ہے اور یہی سبب ہے کہ غیرت کے نام پر قتل کی تعداد میں اضافہ ہوگیا ہے اور مغربی پیروکار، مغربی تنخواہ خوار این جی اوزانسانی ہمدردی کے نام پر حکومت کی حمایت اور ہماری مخالفت کررہی ہیںتاکہ ہماری تہذیب و اقدار کو تباہ و برباد کیا جا سکے اور یہ گھریلوخواتین پر تشدد کا وہی بل ہے جو2005میں بھارت نے منظور کیا تھا۔
جے یو آئی کے قائد کا کہنا تھا کہ پنجاب کے عوام جن لوگوں کو مینڈیٹ دیتے ہیں اس کا ہم احترام کرتے ہیں تو اس کی گالیاں ہمیں دی جاتی ہیں اس لئے عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کریںتاکہ مفاد پرست ٹولہ اقتدار پر مسلط نہ ہو۔