- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شام نے جنگ بندی منصوبے پر مکمل عمل درآمد نہیں کیا:کوفی عنان

نیویارک(العربیہ ڈاٹ نیٹ) اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے خصوصی ایلچی کوفی عنان نے سلامتی کونسل کو بتایا ہے کہ شام نے ان کے امن منصوبے پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا۔انھوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شامی حکومت پر شہروں سے فوجیوں اور بھاری ہتھیاروں کو ہٹانے کے لیے دباؤ ڈالے۔
اقوام متحدہ میں متعین سفارت کاروں کے مطابق کوفی عنان نے سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں کہا کہ شام کے لیے ان کے امن منصوبے کے لیے عالمی حمایت کی ضرورت ہے۔انھوں نے اپنے چھے نکاتی امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے غیرمسلح مبصرین کی تعیناتی کا مطالبہ کیا۔
انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زوردیا کہ وہ شامی فوجیوں کو شورش زدہ شہروں سے واپس بلانے اور انھیں ان کی بیرکوں میں واپس بھیجنے کا مطالبہ کرے۔انھوں نے سلامتی کونسل کے بند کمرے کے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ شامی حکومت نے ٹیکنیکل طور پر امن منصوبے پر عمل درآمد کے لیے اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا۔
درایں اثناء شامی باغیوں نے کہا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کی نگرانی میں جنگ بندی پر عمل درآمد کا عزم کررکھا ہے۔آزاد شامی فوج کے ترجمان کرنل قاسم سعدالدین نے ایک بیان میں شامی حکومت پر الزام عاید کیا کہ وہ باغیوں کو جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے لیے مشتعل کرنے کی کوشش کررہی ہے لیکن ہم اس کے اقدامات سے مشتعل نہیں ہوں گے ۔
انھوں نے شامی قومی کونسل (ایس این سی) کے اس مطالبے کی حمایت کی کہ شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے بین الاقوامی مبصرین کو بھیجا جائے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ گیند اب عالمی برادری کے کورٹ میں ہے اور اسے اس پر کارروائی کرنی چاہیے کیونکہ شامی حکومت نے اس پر عمل درآمد نہیں کیا۔ہم تمام دنیا سے تعلق رکھنے والے مبصرین سے یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوری طور پر شام پہنچیں”۔
شامی قومی کونسل کے سربراہ برہان غلیون نے اس سے پہلے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ”بین الاقوامی مبصرین کو جلد سے جلد شام بھیجا جانا چاہیے”۔
درایں اثناء آزاد شامی فوج کے ترجمان کرنل قاسم سعدالدین نے ایک اور بیان میں جمعرات کی صبح فوجیوں کی بس پر حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں ایک افسر ہلاک اور چوبیس فوجی زخمی ہوگئے تھے۔شامی حکام نے مسلح دہشت گرد گروپوں پر اس حملے کا الزام عاید کیا ہے اور یہ اصطلاح شامی جنگجوؤں کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ آزاد شامی فوج کا اس حملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور شام کے سرکاری خبررساں ادارے سانا( شامی عرب نیوز ایجنسی) نے جو کچھ رپورٹ کیا ہے ،وہ محض ایک پروپیگنڈا ہے۔انھوں نے الزام عاید کیا کہ اس طرح کی کارروائیوں میں سکیورٹی فورسز اور بعث پارٹی کی حامی ملیشیا شبیہہ کا ہاتھ ہے۔
شامی انقلاب کمیشن کی اطلاع کے مطابق شام میں جمعرات کو فوجی جنگ بندی کے معاہدے پر عمل درآمد کے بعد سے فوج کی فائرنگ سے پندرہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے آج ایک بیان میں بتایا ہے کہ شام میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے مشن کو جمعہ کی صبح بھیج دیا جائے گا۔