- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

ترکی کا شام میں فوری طور پر امدادی کوریڈور کھولنے کا مطالبہ

انقرہ(العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں) ترک وزیر اعظم رجب طیب ایردوآن نے پڑوسی ملک شام پر زور دیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنے ہاں امدادی کوریڈور کو کھولنے کی اجازت دے تا کہ سکیورٹی فورسز اور باغیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں متاثر ہونے والے افراد کو امداد مہیا کی جا سکے۔
ترک وزیر اعظم نے یہ بات انقرہ میں اپنی جماعت انصاف اور ترقی پارٹی (اے کے) کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے۔ انھوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ شامی حکومت پر شہریوں کو امدادی سامان مہیا کرنے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ڈالے لیکن ترک وزیراعظم نے شام میں امدادی کوریڈور کے علاقے کا تعین نہیں کیا۔
ترک پارلیمان کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے رجب طیب ایردوآن نے اپنے سابقہ اتحادی شامی صدر بشار الاسد پر حزب اختلاف کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کا الزام عاید کیا اور شامی عوام کو ان کی باوقار اور پُرعزم مزاحمت پر خراج تحسین پیش کیا۔
ترک وزیر اعظم نے روس اور چین کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام سے متعلق قرارداد کو ویٹو کرنے کے اقدام پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”بعض ممالک کی جانب سے متردد حکمت عملی کی وجہ سے اسد انتظامیہ کو مضبوط بننے کا موقع ملا ہے”۔
واضح رہے کہ رجب طیب ایردوآن شامی حکومت کی جانب سے حزب اختلاف کے خلاف تشدد آمیز کارروائیوں کی شدید مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ترک حکومت نے شامی فورسز کی کارروائیوں سے جانیں بچا کر سرحد عبور کر کے آنے والے شامی شہریوں کے لیے صوبہ حاتے میں پناہ گزین کیمپ قائم کر رکھے ہیں جہاں اس وقت گیارہ ہزار کے لگ بھگ افراد مقیم ہیں۔
درایں اثناء شامی فورسز نے وسطی صوبے حمص اور لبنان کے درمیان سرحد پر واقع علاقے میں ایک پل کو بمباری سے تباہ کر دیا ہے۔ اس پل کے ذریعے زخمیوں کو لبنان منتقل کیا جا رہا تھا اور مہاجرین کی بڑی تعداد بھی اس راستے سے لبنان آ رہی تھی۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ یہ پل لبنان کی سرحد سے صرف تین کلومیٹر دور واقع شامی گاؤں ربلہ میں دریا پر تعمیر تھا۔
شبابا عمرو کالونی سے جانیں بچا کر لبنان آنے والے شامیوں نے بتایا ہے کہ حمص کی فضاؤں میں ہر طرف لاشوں کا تعفن پھیلا ہوا ہے۔ گلیوں اور بازاروں میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مرنے والوں کی لاشیں پڑی تھیں۔ تباہ شدہ مکانوں کے ملبے میں لاشوں کو ایسے ہی تجہیز وتکفین کے بغیر دفن کر دیا گیا ہے اور وہاں سے اب بُو آ رہی ہے۔