- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

اعتدال اور حق کی پیروی ’مکی مسجد‘ کا منہج و طریقہ ہے

زاہدان (سنی آن لائن) ایرانی اہل سنت کی عظیم ترین جامع مسجد کے خطیب و امام حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید حفظہ اللہ نے بعض حکومت نواز انتہاپسندوں کی کردارکشی مہم اور جامع مسجد مکی زاہدان کی سرگرمیوں پر واویلا کرنے والوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: کچھ عرصے سے دیکھنے میں آرہاہے کہ بعض جرائد و اخبارات اور ویب سائٹس میں انتہاپسند اور فرقہ پرست عناصر جامع مسجد مکی کو ’مکی تحریک‘ کے عنوان سے یاد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ (جامع مسجد مکی ایرانی اہل سنت کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے میں اہم کردار ادا کرچکی ہے اور ان کا دینی مرکز سمجھی جاتی ہے)۔ جامع مسجد مکی تحریک کی حقیقت کیا ہے؟ مکی مسجد کے مطالبات کیا ہیں؟ ان سوالات کا جواب آج دیدیں گے۔

مولانا عبدالحمید نے بات آگے بڑھاتے ہوئے مزیدگویاہوئے: سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ اعتدال ومیانہ روی، حق کی پیروی اور اسلام ومسلمانوں اور ملک کے مفادات کیلیے کوشش کرنا جامع مسجد مکی کا طریقہ و منہج ہے۔ مکی مسجد سب کی کامیابی و رستگاری کا خواہاں ہے۔ یہ کمزور لوگوں کی آواز ہے۔ ’مکی‘ ملک کی جغرافیایی سرحدات اور سلامتی و عزت کاخواہان ہے۔ اس مسجد میں کوئی مشکوک سرگرمی یا ملک مخالف مہم نہیں ہے۔ اس میں بدامنی اور تخریب کاری کا کوئی حمایتی و ہمدرد نہیں ہے۔ شفقت و ہمدردی، اصلاح اور انسانیت کیلیے نیک خواہش رکھنا؛ جامع مسجدمکی انہی امور کا نام ہے۔

اہل سنت ایران کے ممتاز رہ نما نے جمعہ خطبہ دیتے ہوئے مزید کہا: جامع مسجد مکی ایک اسلامی و دینی مرکز ہے جو مسلمانوں کے دلوں میں انتہائی عزیز اور محبوب ہے۔ سنی برادری بشمول دانشوروں، عمائدین، اساتذہ و طلبہ سمیت ہر طبقے کے لوگ اس کا حترام کرتے ہیں۔ ان کے علاوہ ملک کی شیعہ برادری بھی جامع مسجد مکی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے سوائے ان لوگوں کے جن کی آنکھوں پر تعصب کا پردہ لگاہواہے۔ لیکن تمام شیعہ حضرات اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ یہ دینی ادارہ سب کیلیے خیرخواہی کرتاہے، اس کا تعلق کسی بھی مخصوص پارٹی یا گروہ سے نہیں ہے، نہ ہی اس کے مخصوص مقاصد و اہداف ہیں۔

مہتمم دارالعلوم زاہدان نے تاکید کرتے ہوئے کہا: جو لوگ جامع مسجد مکی سے ’تحریک‘ اور پارٹی بنانے کی کوشش کررہے ہیں انہیں خوب جان لینا چاہیے کہ وہ لوگوں کو جامع مسجد مکی سے دور نہیں کرسکتے؛ سنی مسلمانوں کا تعلق جامع مسجد مکی سے قلبی اور محبت پر مبنی ہے، کوئی بھی شخص ان کا یہ والہانہ تعلق توڑ نہیں سکتا۔

موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ہم دین اور سیاست کی جدائی کے خلاف ہیں؛ ہمارا عقیدہ ہے کہ سیاست دین کا ایک حصہ ہے لیکن ہمارا دین سیاسی نہیں ہے بلکہ ہماری سیاست دینی و اسلامی ہے۔ اسی لیے ہم سیاست چھوڑ نہیں سکتے اور ہماری بعض سرگرمیاں اسی عقیدے کے بنا پر ہیں۔ جب کسی مسئلے کے بارے میں ہم اظہارِخیال کرتے ہیں تو اس کی واحد وجہ خیرخواہی اور شفقت ہے۔ ہماری قوم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔ لوگوں کو سیاسی شعور اور آگاہی حاصل ہے، اسی لیے اگر کوئی سازش ہوتی تو وہ خاموش نہیں رہتے۔

مولانا عبدالحمید نے زور دیتے ہوئے کہا: ایران کی سنی برادری صرف اپنے جائز اور آئینی حقوق کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ پارلیمنٹ کی صدارت یا تخت صدارت پر قبضہ ان کا مطمح نظر نہیں ہے۔ حکومت میں شامل بعض عناصر آپس میں دست وگریبان ہیں تاکہ اپنے سیاسی مخالفین کو دیوار پر لگاکر مزید اقتدار اور سیٹ حاصل کریں۔ لیکن مکی مسجد کو اقتدر نہیں چاہیے ۔ ہم انصاف کی فراہمی اور آئین کے مکمل نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ہماری مسجد بھی قانون کی حمایت کرتی ہے اور آئین کی خلاف ورزی کی سختی سے مخالفت کرتی ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: انصاف کی فراہمی اور برابری کا نفاذ صرف ہمارا مطالبہ نہیں ہے بلکہ دراصل یہ قرآن پاک کا حکم ہے۔ ہم انصاف پسندی کے حامی ہیں چونکہ یہ آسمانی اور قرآنی حکم ہے۔ شیعہ وسنی سمیت دیگر مذاہب کے پیروکار بھی انصاف کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ ہم بھائی چارہ کے علاوہ ’’برابری‘‘ پر زور دیتے ہیں چونکہ ان دو امور اکٹھے ہوکر مکمل معنی دیتے ہیں ، ایک کو چھوڑ کر دوسرا نامکمل ہوگا؛ کیا ایسا کہہ کر ہم ایک نئے گروہ اور تحریک کا حصہ بن جاتے ہیں؟ ہرگز نہیں! ہم صرف ایک ایسے امر پر زور دیتے ہیں جس پر قرآن پاک اور قومی آئین نے تاکید کی ہے۔ جو لوگ مکی مسجد زاہدان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان شاء اللہ العزیز اللہ تعالی کی سزا نہیں بچ سکتے، چونکہ اس مسجد کاتعلق مکہ مکرمہ سے ہے۔

ایرانی اہل سنت کے مایہ ناز عالم دین نے ایرانی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: جیسا کہ آپ پوری دنیا کی شیعہ اقلیتوں کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں اور انہیں سپورٹ کرتے چلے آرہے ہیں اسی طرح اپنے ہی ملک کی سنی اقلیت کے حقوق کا خیال رکھیں اور انہیں ان کے جائز حقوق دلوائیں۔

مولانا عبدالحمید نے مزیدکہا: ہم نے کئی مرتبہ قم شہر میں رہنے والے شیعہ مراجع تقلید سے درخواست کی ہے کہ اعلی حکام کو نصیحت کریں تاکہ ایرانی اہل سنت کے حقوق کا خیال رکھیں اور ان کے آئینی حقوق سے چشم پوشی مت کریں، ہم ملک میں برابری کے نفاذ کا خواہان ہیں۔ ہم نے کبھی بھی صدارت یا سپیکر پارلیمنٹ کا عہدہ نہیں مانگا بلکہ ہمارا مطالبہ صرف ہمارے آئینی حقوق اور دیگر شہریوں کے ساتھ پرامن زندگی کا مطالبہ رہاہے۔ اگر کوئی اس مطالبے سے ناخوش ہے تو اسے ایسا ہی ہونا چاہیے۔ پوری دنیا میں رہنے والی تمام قوموں کا مطالبہ بھی یہی ہے، مشرق وسطی میں اسی لیے لوگوں سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ مظاہرین تمام طبقوں بشمول اقلیتوں کیلیے برابر کے حقوق کا مطالبہ کرتے ہیں۔

خطیب اہل سنت زاہدان نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا: ہمیں امید ہے متعلقہ حکام مغرض اور کینہ جو لوگوں کو جامع مسجد مکی کی کردارکشی سے باز رکھیں گے جو عوام کو اس عظیم دینی مرکز سے دور رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ سازش دراصل سنی مسلمانوں اور حکومت کے درمیان فاصلہ پیدا کرنے کی کوشش ہے۔

بعض امیدواروں کو مکی مسجدجانے سے روکنا ان کی شکست کاپیغام ہے

بعض صوبائی حکام کی سازش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: بعض سکیورٹی حکام نے پارلیمانی انتخابات کے بعض امیدواروں کو دھمکی دی ہے کہ اگر جامع مسجد مکی کا رخ کیا تو انہیں نااہل قرار دیاجائے گا! اگرچہ بندہ گزشتہ ہفتہ اپنے موقف کا اعلان کرچکاہے لیکن ہمیں اس بات پر افسوس ہوا کہ بعض عناصر سنی نمائندوں کو مجلس شورا سے دور رکھنا چاہتے ہیں۔ امیدواروں کو یہ حق حاصل ہے کہ مساجد سمیت دیگر پبلک مقامات پر جاکر اپنے پلانوں اور منصوبوں سے لوگوں کو آگاہ کریں، یہ ان کا قانونی حق ہے۔

انہوں نے مزیدکہا: پہلے ہی ہم سرپرست کونسل (شورائے نگہبان) کے رویہ پر تنقید کرچکے ہیں کہ رجسٹرڈ امیدواروں کو بلاوجہ نااہل قرار دیتی ہے۔ لیکن اب جب کچھ لوگ ان کی فلٹرنگ سے بچ کر پاس ہوچکے ہیں انہیں دیگر ادارے ہراسان کرتے ہیں اور انہیں انتخابی مہم چلانے میں رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ بعض ملکوں میں نامزد امیدواروں کو حکام پر تنقید کا حق بھی حاصل ہے۔ سنی امیدواروں کیلیے جامع مسجد مکی یا دیگر مساجد کو ’شجرہ ممنوعہ‘ قرار دینا درحقیقت اس بات کی غمازی کرتاہے کہ اگلی پارلیمنٹ میں کیسے لوگوں کاہجوم ہوگا۔

اپنی گفتگو مکمل کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے کہا: گزشتہ انتخابات کیدوران زاہدان شہر میں ہم عوام کو مشورہ دیا کرتے تھے کہ ایک شیعہ اور ایک سنی امیدوار کے حق میں اپنا ووٹ ڈالیں، لیکن جب نصف رات کے بعد ووٹوں کی گنتی شروع ہوتی تو ہمارے شیعہ امیدواروں کو پیچھے دکھیل دیاجاتا۔ اس مرتبہ عوام جانیں اور ان کا ووٹ۔ مجھے اس مرتبہ معاف کریں۔