- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

حمص اور دمشق میں مظاہرین پرفائرنگ اور گولہ باری

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ،ایجنسیاں) شام کے وسطی شہر حمص اور دارالحکومت دمشق میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور تشدد کے واقعات میں ستائیس مزید افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔
شامی صدر بشارالاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک میں سرگرم کارکنان نے العربیہ کو بتایا ہے کہ حمص کے علاقے بابا عمرو میں سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف فاسفورس بم استعمال کیے ہیں اور شہر میں ایک گھنٹے میں کم سے کم ایک سو گولے گرے ہیں جس کے نتیجے میں اکیس افراد افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو زخمی ہو گئے ہیں۔
صدر بشارالاسد کی وفادار سکیورٹی فورسز نے گذشتہ اٹھارہ روز سے حمص کے آبادی والے علاقوں پر گولہ باری جاری رکھی ہوئی ہے۔شہر میں اسدی فورسز حکومت مخالفین کو کچلنے کے لیے ٹینکوں اور بکتربند گاڑیوں کے ساتھ ایک بڑی زمینی کارروائی کی تیاری کررہی ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے کہا ہے کہ اگر سکیورٹی فورسز نے بابا عمرو پر چڑھائی کی کوشش کی اور اس کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کی تو اس سے بہت زیادہ جانی نقصان ہوگا۔
دارالحکومت دمشق میں پولیس اورسکیورٹی فورسزنے حکومت مخالفین کی ریلی پر براہ راست فائرنگ کی ہے۔شہر میں ہفتے کے روز سے حکومت مخالفین اور سکیورٹی فورسز کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے۔گذشتہ روز دمشق کے علاقے المزہ میں پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بشارالاسد کے مخالفین کو احتجاجی ریلی نکالنے سے روک دیا تھا۔اس علاقے میں ہفتے کے روز پندرہ ہزار افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا تھا۔یہ دارالحکومت میں صدر بشارالاسد کے خلاف گذشتہ گیارہ ماہ سے جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔
ادھر ترکی کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے کفر تخریم میں باغیوں نے ایک سرکاری قافلے پر حملہ کرکے پانچ فوجیوں کو ہلاک کردیا ہے اور دوکو گرفتار کرکے ساتھ لے گئے ہیں۔سرکاری خبررساں ایجنسی سانا کے مطابق وسطی صوبے حماہ کے علاقے اطہریہ میں ایک مسلح دہشت گرد گروپ کے ساتھ جھڑپ میں ایک لیفیٹیننٹ کرنل اور ایک سارجنٹ ہلاک ہوگیا ہے۔
حماہ میں شامی فورسز نے صدر بشارالاسد کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو کچلنے کے لیے ایک نیا کریک ڈاؤن شروع کیا ہے۔وہاں بکتربند گاڑیوں اور طیارہ شکن توپوں سے گولہ باری کی گئی ہے۔حماہ میں سرکاری فورسز کی کارروائی سے قبل لینڈلائن اور موبائل فون کے نیٹ ورکس کو منقطع کردیا گیا تھا۔
واضح رہے کہ روس اور چین نے 4فروری کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں شام میں خونریزی روکنے سے متعلق قرارداد کو ویٹو کردیا تھا جس کے بعد سے عرب اور مغربی ممالک شام میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہریوں کے قتل عام کو رکوانے کے لیے دوسرے اقدامات پر غور کررہے ہیں اور اسی ہفتے تیونس میں ”دوستان شام” ممالک کا اجلاس ہورہا ہے جس میں صدر اسد کے خلاف نئے اقدامات پر غور کا جائے گا۔
شام میں گذشتہ سال مارچ کے وسط سے صدر بشارالاسد کے خلاف جاری عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مقامی رابطہ کمیٹیوں کے فراہم کردہ اعدادوشمار کے مطابق سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں سات ہزار تین سو افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے یہ تعداد پانچ ہزار چار سو بتائی ہے اور اس نے وسطی شہر حمص میں شامی فورسز کی حالیہ کارروائیوں کے بعد سے ہلاکتوں کے نئے اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں۔
صدر بشارالاسد کے خلاف تحریک میں پیش پیش کارکنان کا کہنا ہے کہ حمص میں 4فروری کے بعد سے سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔