- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

امریکہ سے آقا اورغلام کا رشتہ قبول نہیں، مولانافضل الرحمن

کراچی(نیوز ایجنسیاں) جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ملک کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے اور مسائل کو حل کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ اسٹیبلشمنٹ ہے، اگر یہ راستے کی رکاوٹ نہ بنے تو پھر دیکھتے ہیں کہ ہم جیتتے ہیں یا کوئی اور؟


اسٹیبلشمنٹ نے اس ملک کو سیکورٹی اسٹیٹ بنادیا ہے، یہ مسائل حل نہیں کرسکتے، مغرب کی جانب سے مسلمانوں کی تذلیل، قران پاک کی توہین اور اسلام دشمن اقدام ہمیں انتہا پسند رویہ اختیار کرنے پر مجبور کررہے ہیں، ہم مذاکرات کے قائل ہیں، اگر افغانستان کا مسئلہ مذاکرات سے حل ہوتا ہے تو اس پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ، ہم نے اپنے دور حکومت میں خیبرپختونخواہ میں خانوں نوابوں اور ملکوں کی سیاست ختم کی تھی، اب سندھ سے جاگیرداروں کی سیاست ختم کریں گے، روٹی کپڑا اور مکان کے نعرے نے کبھی بھوکے کا پیٹ نہیں بھرا،تبدیلی کیلئے اپنے پائوں پر کھڑے ہوکر معیشت درست کرنا ہوگی.
مغرب کی انتہاء پسندی کے خلاف ہمیں بھی انتہاء پسند پالیسی بنانے کا حق ہے،امریکا اور اسکے حواری سن لیں امریکہ سے اقا اور غلام کا رشتہ قبول نہیں،انتخاب جیت گئے توپورے ملک میں عوام کو مفت طبی اور تعلیم کی سہولیات فراہم کریں گے،
بین الاقوامی سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔ دشمن ہمارے وسائل پر قبضہ چاہتے ہیں۔چین دوست ملک ہے اسکا احترام کرتے ہیں۔ بندوق کی نوک پر شریعت کے نفاذ کے مطالبے کو درست نہیں مانتے،
سفارشات پر عمل نہ کرنے والے مسلح تنظیموں سے بڑے مجرم ہیں،ازاد خارجہ پالیسی ہوتی تو اج یہ دن نہ دیکھنا ہوتے۔پاکستان کو قربانیوں کا صلہ ذلت اور رسوائیوں کی صورت میں مل رہا ہے۔
وہ جمعہ کو جمعیت علماء اسلام کے تحت باغ قائداعظم پر عظیم الشان اور تاریخی “اسلام زندہ باد کانفرنس” سے خطاب کر رہے تھے۔
کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفور حیدری، اکرم درانی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، قاری حنیف جالندھری، سید عبدالمجید ندیم شاہ، قاری محمد عثمان، مولانا امجد خان، حافظ حسین احمد، سینیٹر خالد محمود سومرو، سینیٹر حاجی غلام علی اور دیگر نے خطاب کیا۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سندھ کے عوام نے اس بحرے بے کراں کے ذریعے جمعیت علماء اسلام پر بے لاگ اعتماد کیا ہے ، جس کا ثبوت اج کا یہ فقیدالمثال عوامی اجتماع ہے، جو پوری قوم کیلئے ایک پیغام ہے کہ 63 سال قبل قیام پاکستان کے وقت جونعرہ لگایا تھا اج جمعیت علماء اسلام کے جیالوں نے اس نعرے کو نئی جلا بخشی ہے اور قوم کو احساس دلایا ہے کہ پاکستان کے قیام کا مقصد غلامی کی زنجیروں اور توپ کو دوام بخشنا نہیں بلکہ حقیقی ازادی حاصل کرنا تھا مگر قیام پاکستان سے ہی ملک پر ایسا نظام نافذ کردیا گیا اور لوگ قابض ہوئے کہ ہمیں فرنگی کے دور سے نکال کر امریکی استعمار کے حوالے کردیا گیا اور پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ نے سیکورٹی اسٹیٹ بنادیا، ملک کا سرمایہ اسٹیبلشمنٹ کی عیاشیوں کے استعمال پر خرچ ہوتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کا 60 فیصد بجٹ دفاع پر خرچ ہورہا ہے اور غریب بھوکا رہ رہا ہے۔
ملک کی معیشت منظم نہ ہونے کی وجہ سے تباہ ہوچکی ہے، حکمران اور سیاستدانوں کے درمیان الزامات کی بھرمار ہے، ایسے حالات میں خوشحالی کیسے ائے گی۔ اگر ملک میں خوشحالی لانی ہے تو وسائل کو نظم وضبط میں لا کر عوام کی ملکیت میں دینا ہوگا جو حکمران کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہیں، عوام ان کو مسترد کریں اور ان لوگوں کو سامنے لائیں جن کا دامن بے داغ ہے، اسی کو تبدیلی کہا جاتا ہے۔ یہی تبدیلی ہم اپنے پیروں پر کھڑے ہو کر ہی لاسکتے ہیں۔
پاکستان کے قیام کا مقصد فلاحی ریاست تھا، مگر اس کو فلاحی ریاست کے بجائے اسٹیبشلمنٹ کی ریاست بنادیا گیا۔ یہاں کے وسائل پر کرپشن ہورہا ہے،
انہوں نے کہا کہ بعض قوتیں مذہبی طبقے کو مذہبی انتہا پسندی کی طرف دھکیلنا چاہتے ہیں۔ ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں، ہم انتہا پسند نہیں، انتہا پسند تم ہو۔ ہمیں تو قران پاک نے میانہ رو امت قرار دیا ہے۔ ہم نے باطل نظریات اور غیر فطری نظریات کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 20 سال قبل افغانستان میں کمیونزم کو افغان عوام نے شکست دی اور اج 20 سال بعد وہی افغان عوام سرمایہ دارانہ نظام کو شکست دے رہے ہیں جس کی وجہ سے مغرب کے لوگ اب خود بغاوت پر اتر ائے ہیں۔ ہم امریکی عوام یا کسی کے دشمن نہیں، حقیقی چیز رویے ہیں۔ ہم امریکی رویوں کے دشمن ہیں۔ چین ہمارا پڑوسی دوست ملک ہے جس کا ذکر اتے ہی دوستی کا تصور اتا ہے۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات اقا اور غلام کے تعلقات ہیں،
کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ ملک کے موجودہ حکمران اور ادارے مکمل طور پر ناکام ہوچکیں ہیں، کراچی میں لوگوں کو قومیتوں کے نام پر لڑوایا جارہا ہے اور اس شہر میں قتل ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہریوں کے قاتل اج بھی اسی شہر میں موجود ہیں۔ ماضی میں ملک کو اسلامی انقلاب کا نعرہ دینے والے اج امریکی ایجنٹ بنے ہوئے ہیں اور اس ملک کا سودا کررہے ہیں۔
کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء معروف عالم دین مولانا عبدالمجید ندیم شاہ، قاری شیر افضل، عبدالکریم عابد، سینیٹر خالد سومرو، رکن قومی اسمبلی و چئیرمین قائمہ کمیٹی مذہبی امور مولانا محمد قاسم، حاجی عبدالجلیل جان، مولانا سراج احمد سید امروٹی، عبدالجبار لاکھو، قاضی محمود الحسن اشرف، سینیٹر حاجی غلام نبی افریدی ، عظیم احسان، حافظ حسین احمد، حافظ محمد ادریس، لائق خان سواتی، مرکزی سیکریٹری اطلاعات جے یو ائی مولانا امجد خان، سید سلمان گیلانی، مولانا حنیف جالندھری، جامعہ اسلامیہ بنوری ٹائون کے مہتمم ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، قاری محمدعثمان، اسلم غوری اور دیگر نے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسفندر یار ولی اور ان کی جماعت نے روس کی حمایت اس وقت کی تھی جب وہ افغانوں کو مار رہا تھا اور اج وہ امریکہ کہ حمایت کررہا ہے کہ وہ اج ایک بار پھر افغانوں کو ماررہے ہیں لیکن جمعیت کے قائدین اور رہنمائوں نے اس وقت بھی روس اور امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگایا اور اج بھی ہم امریکہ کا نعرہ لگارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اج بلوچستان کو اتش فشاں بنا دیا گیا ہے اس لیئے ان مقتدر قوتوں کو اج ہم بتا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اب اپنی مک مکا کا سلسلہ اب بند کردیں ورنہ ان کے نتائج بھی بھیانک ہونگے۔
انہوں نے چیف جسٹس اف پاکستان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ این ار او کی حقیقت سے قوم اور ارمی چیف کو اگاہ کریں اور ان لوگوں کے چہرے بے نقاب کریں.