نیکوسیا،دمشق،ماسکو (اے ایف پی،رائٹرز) شام میں جمعہ کو پرتشدد واقعات میں12سیکورٹی اہلکار سمیت 37افراد ہلاک ہوگئے۔یہ بات شام سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیم نے جمعہ کو بتائی جبکہ واچ ڈاگ کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں شامی سیکورٹی فورسز نے 23شہریوں کو ہلاک کردیا۔
ادھر اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف نے کہا ہے کہ شام میں گزشتہ دس ماہ سے جاری تشدد کے دوران کم ازکم 384بچے جن میں بیشتر لڑکے ہیں جاں بحق ہوئے اور تقریباً اتنے ہی بچے زیرحراست ہیں زیر حراست بچوں میں سے چند کی عمر 14سال سے کم ہیں۔دریں اثناء روس نے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جس میں شامی صدر بشارالاسد کے استعفے پر زور دیا گیا ہو۔
تفصیلات کے مطابق جمعہ کو 12افراد جنوبی صوبہ درعا کے علاقے نوا میں 5افراد الیپوشہر میں 4حمص شہر میں ایک شخص حما کے قریب جبکہ ایک بچہ دماسکس صوبہ میں ہلاک ہوا۔
برطانیہ میں قائم شام سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ دو علیحدہ حملوں میں سیکورٹی فورسز کے 12اہلکار ہلاک ہوگئے۔ادلیب شہر میں کار بم حملے میں سیکورٹی چیک پوائنٹ کو نشانہ بناتے ہوئے 6اہلکاروں کو ہلاک کیا گیاجبکہ جنوبی صوبہ درعا میں باغی فوجیوں نے سیکورٹی اہلکاروں کی دو بسوں میں گھات لگاکر حملہ کردیا جس کے نتیجے میں 6اہلکار ہلاک اور 5زخمی ہوگئے۔
ادھرجنیوا میں اقوام متحدہ کے ادارے نونیسیف نے کہا کہ ہے کہ شام میں 10ماہ سے جاری تشدد کے دوران کم ازکم 384بچے جن میں بیشتر لڑکے ہیں جاں بحق ہوئے اور تقریباً اتنے ہی بچے زیرحراست ہیں۔یہ بات اقوام متحدہ کے بچوں سے متعلق ادارے یونیسیف کی ڈپٹی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے جینیوا میں ایک پریس بریفنگ میں بتائی۔انہوں نے کہا کہ تقریباً380بچے جن میں سے چند کی عمر 14سال سے کم ہے زیر حراست ہیں۔
دریں اثنا سعودی عرب نے شامی عوام کے سرکاری نمائندے کے طور پر شامی قومی کونسل کو تسلیم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔یہ بات اپوزیشن گروپ کے ایک سنیئر رکن نے جمعہ کو شائع ہونے والے ایک بیان میں کہی ہے۔سعودی وزیر خارجہ شہزادہ سعود الفیصل نے گزشتہ ہفتے قاہرہ میں شامی قومی کونسل کے ایک وفد سے ملاقات میں کہا کہ سعودی عرب شامی قومی کونسل کو تسلیم کرلے گا۔یہ بات قومی کونسل کے رکن احمد رمضان نے کویت کے ایک اخبار کو بتائی۔
ادھر روس کے نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹی لوف نیکہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی ایسی کسی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا جس میں شامی صدر بشارالاسد کے استعفے پر زور دیا گیا ہو۔