- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مصر: 25 جنوری انقلاب کی سالگرہ، پُرامن مظاہروں اور ریلیوں کا انعقاد

قاہرہ(العربیہ ڈاٹ نیٹ) مصر میں آج بدھ کو سابق صدر حسنی مبارک کے خلاف گذشتہ سال برپا شدہ عوامی انقلاب کی پہلی سالگرہ منائی جارہی ہے۔اس موقع پر دارالحکومت قاہرہ کے مشہور آزادی چوک میں ہزاروں افراد ریلی نکال رہے ہیں۔ مصریوں کی ایک بڑی تعداد نے فوجی حکمرانی کے خلاف ایک نئے انقلاب کا مطالبہ کیا ہے جبکہ بعض نے سابق صدر اور ان کے معاونین کے خلاف تیز رفتار مقدمات چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔
مصر کی حکمران مسلح افواج کی سپریم کونسل نے 25جنوری کو یوم انقلاب قرار دے رکھا ہے۔گذشتہ سال اسی تاریخ کو تیونس میں سابق صدر زین العابدین بن علی کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک سے متاثر مصریوں نے مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی تحریک شروع کی تھی اور ان کے اٹھارہ روز تک جاری رہے احتجاجی مظاہروں کے نتیجے میں حسنی مبارک 11فروری 2011ء کو مستعفی ہو گئے تھے اور اب ان کے خلاف بدعنوانیوں اور مظاہرین پر گولی چلانے کے الزامات میں مقدمات چلائے جارہے ہیں۔ اگر ان کے خلاف الزامات ثابت ہو گئے تو انھیں سزائے موت کا سامنا ہو سکتا ہے۔
دارالحکومت قاہرہ ،ساحلی شہر اسکندریہ اور دوسرے شہروں میں تراسی سالہ حسنی مبارک کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں کی تعداد میں مصریوں نے شرکت کی تھی اور ان کی تحریک حسنی مبارک کے تیس سالہ آمرانہ دور حکومت کے خاتمہ پر منتج ہوئی تھی۔وہ دوسرے عرب لیڈر تھے جن کی حکومت کو عوام نے چلتا کیا تھا۔ ان سے قبل 14جنوری 2011ء کو تیونس کے صدر زین العابدین بن علی اپنے خلاف احتجاجی مظاہروں کے بعد اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔
حسنی مبارک کے مستعفی ہونے کے بعد اقتدار مسلح افواج کی سپریم کونسل نے سنبھال لیا تھا اور وہ گذشتہ قریباً ایک سال سے برسراقتدار ہے، اس دوران پارلیمان انتخابات کا انعقاد کیا گیا ہے جن میں اسلامی جماعتوں نے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی کا کہنا ہے کہ وہ جون 2012ء کے آخر تک اقتدار ایک منتخب صدرکے حوالے کر دیں گے۔ اس طرح ملک میں جمہوری تبدیلی کا عمل مکمل ہوجائے گا۔
فیلڈ مارشل طنطاوی نے منگل کو ایک نشری تقریر میں ملک میں گذشتہ تیس سال سے نافذ ہنگامی حالت کے قانون کو ہٹانے کا اعلان کیا تھا اور کہا کہ مصری قوم اور مسلح افواج کا ایک ہی مقصد ہے اور وہ ملک کو ایک جمہوری ملک بنانا ہے۔
سپریم کونسل نے انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر یادگاری سکے جاری کرنے کا اعلان کیا ہے اور توقع ہے کہ اس دوران بہتر انداز میں خدمات انجام دینے والے سرکاری ملازمین کو اعزازات بھی دیے جائیں گے۔ کونسل نے مصریوں پر زور دیا ہے کہ وہ 25 جنوری کی روح کو برقرار رکھیں جس نے مرد و خواتین ،نوجوانوں ،بوڑھوں اور مسلم اور عیسائیوں کو متحد کر دیا تھا۔
لیکن سابق صدر کے خلاف انقلاب برپا کرنے والے مصریوں کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل محمد حسین طنطاوی نے ان کے انقلاب کو ہائی جیک کرلیا ہے۔ان کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ طنطاوی اور ان کے ساتھی جرنیل فوری طور پر اقتدار چھوڑ دیں اور وہ آئین کی تیاری کے عمل سے دور رہیں کیونکہ انھیں خدشہ ہے کہ فوجی حکمراں کونسل فوج کے لیے آئین میں خاص اختیارات کا تعین کرسکتی ہے۔
قاہرہ کا آزادی چوک مصر میں عوامی انقلاب کے دوران احتجاجی مظاہروں کا اہم مرکز رہا ہے اور آج بھی وہاں انقلاب کی سالگرہ کے موقع پر ریلی نکالی گئی۔ مصر کی حکمراں فوجی کونسل نے قاہرہ میں مظاہرے کے دوران کسی قسم کی گڑبڑ سے بچنے کے لیے سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کو آزادی چوک اور اس کے آس پاس کے علاقوں سے ہٹا لیا تھا اور انھیں عوامی اجتماعات والی جگہوں سے دور رہنے کی ہدایت کی تھی۔ مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں بھی عوامی انقلاب کے مطالبات کے حق میں مظاہرے کیے گئے ہیں۔
مصر کی سب سے منظم اور بڑی جماعت اور حالیہ پارلیمانی انتخابات میں قریباً نصف نشستیں جیتنے والی اخوان المسلمون سمیت بعض سیاسی جماعتیں ملک میں مزید احتجاجی مظاہروں اور جلسے، جلوسوں کی مخالفت کررہی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو معاملات کو سلجھانے کے لیے وقت درکار ہے اور اسے اپناکام کرنے دیا جائے۔ اخوان المسلمون نے خاص طور پر خبردار کیا ہے کہ احتجاجی جلسے، جلوسوں سے فوج اور مظاہرین کے درمیان محاذ آرائی کی فضا پیدا ہو سکتی ہے جس سے عوامی انقلاب دھرے کا دھرا رہ جائے گا اور اس کے مقاصد پورے نہیں ہوں گے۔