Categories: پاکستان

توہین عدالت کیس کی سماعت یکم فروری تک ملتوی

اسلام آباد (خبرايجنسياں) عدالت عظمی نے  وزیراعظم کو آئندہ کارروائی پر حاضری سے مستثیٰ قرار دیتے ہوئے ان کے وکیل اعتزاز احسن  کو تیاری کیلئے 14 دن کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت  یکم فروری تک کیلئے  ملتوی کردی ہے۔
آج صبح پاکستان کے وزیراعظم سیدیوسف رضا گیلانی  توہین عدالت کےالزام میں  پیشی کیلئے9:27 پرسپریم کورٹ پہنچ گئے تھے۔
این آر او نظرثانی کیس  کی سماعت سپریم کورٹ  کا 7 رکنی بینچ جسٹس ناصرالملک کی سربراہی میں کررہا ہے جس  کی سماعت عدالت کے کمرہ نمبر 4 میں  شروع ہوگئی ہے۔
سپریم کورٹ نے اعتزاز احسن کو آئندہ سماعت پر صدارتی استثنیٰ  پر تحریری جواب داخل کرنے کا حکم بھی دیا۔
قبل ازیں وزیراعظم کے وکیل اعتزاز احسن نے اپنے موکل کے حق میں دلائل پیش کرنا شروع کردیئے ہیں ۔
چودھری اعتزاز احسن  نے سپریم کورٹ بتایا کہ  عدالت عظمیٰ نے  وزیراعظم پاکستان کو طلب کیاتھا وہ خود پیش ہوئے ہیں جس کے بعد وزیراعطم نے اپنا موقف پیش کیا۔
ان کا کہناتھا کہ میں پاکستانی عدالتوں کا احترام کرتاہوں، اس سے قبل بھی عدالتوں کے سامنے پیش ہوتارہا ہوں، میرے قائد ذوالفقار بھٹو اور نصرت بھٹو بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوتی رہیں ہیں۔
وزیراعظم  سید یوسف رضا گیلانی نے کہاکہ  عدالت  کی  تضحیک  و توہین کا سوچ بھی نہیں  سکتا ہے،پاکستان سمیت پوری دنیا  میں صدر کو استثنیٰ ہوتا ہے جس کی پاکستانی آئین بھی گواہی دیتا ہے۔
سپریم کورٹ  کی طرف سے سوئس حکومت کو خط نہ لکھنے کے استفسار  پر ان کا کہناتھا  کہ خط اس لیے نہیں لکھا کیونکہ صدر پاکستان  کوا ستثنیٰ  حاصل ہے۔
جسٹس  آصٖف کھوسہ  نے کہاکہ ملکی تاریخ کا آج اہم ترین دن ہے اس سے  قانون کی حکمرانی ثابت ہوتی ہے کہ ملک کا  سربراہ اس وقت عدالت کے سامنے موجود ہے اب اس کیس  کا فیصلہ جو بھی نکلے ۔
جسٹس آصف کے ریمارکس پر سید یوسف رضا گیلانی   نے کہاکہ  عدالت جب بلائےگی حاضر ہو جاوں گا  ملک کا طویل وزیراعظم ہوں ۔
جسٹس ناصر الملک  نے  کہاکہ آپ کا سپریم کورٹ کے سامنے پیش ہونا قابل ستائش ہے۔
ان کاکہناتھا کہ آئین ہی کے باعث عدالت اور مقننہ کا احترام ہے۔
جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ این آراو کے فیصلے پر وزارت قانون نے سمری عمل درآمد کیلئے نہیں بلکہ روکوانے کیلئے بنائی  ۔
ان کا کہناتھا کہ عدالت نے سیکریٹری قانون  سے 2 بار پوچھا کہ  این آر او عمل درآمد کی سمری  وزیراعظم کو کیوں نہیں بھیجی گئی جس پر ان کا کہناتھا کہ سمری بھیج دی گئی ہے۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ سمری بھیجنے یاں نہ بھیجنے کا جواب سیکریٹری قانون دیں گے وزیراعظم کی وکالت کےلیے  عدالت آیا ہوں نہ کہ سیکریٹری قانون کی ۔
جسٹس سرمد جلال  نے استفسار کیا کہ  وزیراعظم  کا کہناہےکہ وہ عدالتوں کا احترام کرتے ہیں تو پھر ابھی این آر او کے فیصلے پر عمل درآمد کیوں  نہیں ہوا۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ  وزیر اعظم خط لکھیں گے مگر اس پر عمل درآمد اپنے وقت پر ہوگا جب کہ فوجداری  کیس کی پیروی ہورہی ہے جس کے تحت میرے موکل کو  خصوصی استثنیٰ  حاصل ہے۔
ان کا کہناتھا کہ سربراہ مملکت کا عدالتی حکم کی خلاف ورزی کا کوئی ارادہ نہیں  اور نہ ہی میرے موقف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔
جسٹس ناصرالملک نے کہاکہ اگر آپ  استثیٰ کے حوالےس ے آئین میں موجود پیراگراف حذف کرواناچاہتے ہیں اگر بات  اس پر کرنی ہے تو بتائیں ۔
اعتزاز احسن نے کہاکہ میں فی الحال  اس موضوع پربات نہیں کرناچاہتاہوں کیوں کہ میرے پاس اس حوالے سے ریکارڈ موجود نہیں ہے کیس بہت اہم ہے مجھے ایک ماہ کی مہلت دی جائے ۔
جسٹس ناصر الملک نے کہاکہ ہم آپ کو 2 دن کی مہلت دے سکتے ہیں تاکہ آ پ کیس کا ریکارد حاصل کرلیں ۔
وزیراعظم کے وکیل نے کہاکہ کیس کا ریکارڈ بہت طویل ہے جیسے پڑھنے کیلئے مجھے تھوڑا زیادہ وقت نہیں ملے گا۔
عدالت عظمی ٰ کے 7 رکنی بینچ نے مشورے کے بعد وزیراعظم کو آئندہ کارروائی پر حاضری سے مستثیٰ قرار دیتے ہوئے ان کے وکیل کو تیاری کیلئے 15 دن کی مہلت دیتے ہوئے کیس کی سماعت  3 فروری تک کیلئے  ملتوی کردی ہے۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی پرایم منسٹر  ہاوس سےکار خود چلاتے ہوئے سپریم کورٹ پہنچے  ان کے ہمراہ  ان کے وکیل چودھری اعتزاز احسن موجود تھے ۔
وزیراعظم کی عدالت عظمیٰ  آمد کیلئے سخت سیکورٹی کاانتظام کیا گیا تھا جس کے باعث عدالت آنے والے وکلااور دیگر افراد کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔

modiryat urdu

Recent Posts

کوئی بھی «جنگ» کی تمنا نہ کرے / جنگ کی روک تھام حکام کے ہاتھ میں ہے

شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…

3 months ago

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے معافی مانگیں اور ان کے مطالبات تسلیم کریں

جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…

4 months ago

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب کیا

ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…

4 months ago

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے

4 months ago

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا کو ’’حیرت زدہ اور مبہوت‘‘ کر دیا

ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…

4 months ago

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں

حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…

5 months ago