- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

مذاکرات کے بعد شامی فوج کی الزبدانی شہر سے واپسی

بيروت(العربیہ) دمشق کے نواحی علاقے الزبدانی سے العربیہ ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ شہر میں بڑی فوجی کارروائی کے بعد شامی فوجی دستے علاقے سے نکل گئے ہیں۔ یہ کارروائی آزادی شامی فوج سے مذاکرات کے بعد اختتام پذیر ہوئی۔ شامی فوج اپنی چار دن تک مسلسل گولہ باری میں آزاد شامی فوج کو گزند پہنچانے میں ناکام رہی ہے۔
العربیہ ٹی وی کے ساتھ الزبدانی سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے ایک کارکن کا کہنا تھا کہ شامی فوج نے آزاد شامی فوج کی جانب سے بشار الاسد کے حامی فوجیوں پر حملے بند کرنے کی یقین دہانی کے بعد شہر سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا۔
انٹرنیٹ پر جاری ایک ویڈیو بیان میں فوجی وردی میں ملبوس مسلح افراد یہ کہتے دکھائے دیتے ہیں کہ شامی فوج کے شہر سے باہر نکلنے کے لئے حمزہ بن عبدالمطلب بریگیڈ کی جانب سے طے کردہ ڈیڈ لائن کے خاتمے کے بعد آزاد شامی فوجیوں نے ایک کیمونیکشن ٹاور کو معطل کر دیا، انہوں نے شہر میں فوجی اہمیت کے مزید اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں دیں تھیں۔
بیان کے مطابق چار روز تک بشار الاسد کے حامی اور آزاد شامی فوجی دستوں کے درمیان لڑائی میں دو ٹینک، دو آرمڈ گاڑیاں، اے پی سی اور متعدد فوجی گاڑیاں تباہ کی گئیں۔ اس دوران 35 کرائے کے فوجی بھی المناک انجام سے دوچار ہوئے۔ آزاد شامی فوج نے ایک خفیہ مرکز کو بھی حملے کا نشانہ بنایا جس کے بعد وہاں پر ڈیوٹی دینے والے پانچ بشار الاسد نواز فوجی اپنی یونٹ سے منحرف ہو کر آزاد شامی فوج میں شامل ہو گئے۔
اس کارروائی کے دوران آزاد شامی فوجیوں نے تین فوجی گاڑیوں کے علاوہ سرکاری اسلحہ گودام میں بڑی تعداد میں موجود ہلکے اور بھاری ہتھیاروں پر بھی قبضہ کر لیا۔ العربیہ اس ویڈیو بیان میں کئے گئے دعوی کی کسی دوسری آزاد ذریعے سے تصدیق نہیں کر سکا۔
ویڈیو کلپ میں ایک ٹینک کو آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے، ایک دعوے کے مطابق اس ٹینک کو شہر پر حملے کے وقت مظاہرین نے آگ لگائی۔ دوسرے ذرائع کا کہنا ہے کہ فوجی دستوں نے گزشتہ جمعہ کے روز الزبدانی کا محاصرہ کر لیا۔ اس دوران علاقے پر ٹینکوں اور مشین گنوں سے مسلسل فائرنگ کی جاتی رہی۔ حملے کے دوران دو افراد ہلاک جبکہ پانچ دوسرے زخمی ہو گئے۔ گولہ باری سے ایک مسجد سمیت پانچ رہائشی عمارتوں کو بری طرح نقصان پہنچا۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران علاقے میں بجلی، پانی اور دیگر مواصلاتی ذرائع مکمل طور پر منقطع رہے۔ اہالیاں علاقہ نے دھمکی دی تھی کہ اگر انہیں بنیادی ضروریات کی فراہمی کا سلسلہ دوبارہ شروع نہ کیا گیا تو وہ لبنان کو بجلی فراہم کرنے والی مین لائن کاٹ دیں گے۔
مقامی کوارڈینیش کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کے بعد علاقے سے بڑی تعداد میں لوگوں سے محفوظ مقامات کی طرف منتقلی شروع کر دی ہے۔ یاد رہے کہ الزبدانی پر بھاری اسلحے کی مدد سے حملے کی اطلاعات کے بعد گزشتہ اتوار کو عرب لیگ کے مبصرین کی ایک ٹیم نے علاقے کا دورہ بھی کیا تھا۔