سپریم کورٹ نے یہ حکم پیر کو قومی مصالحتی آرڈیننس کیس کے فیصلے پر عملدرآمد کے مقدمے کی سماعت کے دوران دیا۔ کیس کی سماعت جسٹس ناصر الملک کی سربراہی میں سات رکنی بنچ کر رہا تھا۔
بینچ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس گلزار احمد، جسٹس اعجاز چوہدری اور جسٹس اطہر سعید شامل ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس ناصر الملک نے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے انیس جنوری کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ عدالت کی جانب سے یہ فیصلہ اٹارنی جنرل کو وزیراعظم اور صدر پاکستان کی جانب سے ہدایات لینے کے لیے دیئے گئے 20 منٹ کے بعد کیا گیا ہے۔
واضح ہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے لارجر بینچ کو دی جانے والی چھ سفارشات میں سے ایک سفارش یہ بھی تھی کہ وزیر اعظم پاکستان کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کی جائے۔
قبل ازیں سوئس حکام کو خط کے سوال پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ عدالتی حکم صدر، وزیراعظم سمیت تمام متعلقہ لوگوں کو پہنچا دیا تاہم صدر اور وزیراعظم کی جانب سے انہیں ہدایات نہیں ملیں جس کے لیے انہیں مزید وقت چاہیے۔
اٹارنی جنرل نے عدالت کو مزید بتایا کہ سیکریٹری قانون ملک سے باہر ہیں جب کہ وزیر قانون اُن کے آنے کے منتظر ہیں اور عدالت میں آئے ہوئے ہیں۔ اس پر جسٹس ناصرالملک کا اٹارنی جنرل نے اٹارنی جنرل کو کہا کہ آپ کو آرڈر نہیں پہنچانے تھے، بلکہ آپ کو سوئس حکام کو خط لکھنے کیلئے متعلقہ حکام سے ہدایات لینا تھیں۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…