- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

بدنام ترین عقوبت خانہ گوانتا ناموبے کو 10سال مکمل ہوگئے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکا کے بدنام ترین عقوبت خانے گوانتا ناموبے کے 11جنوری کو 10سال پورے ہوگئے۔
نائن الیون کے بعد کیوبا کے امریکی اڈے میں بنائی گئی اس جیل میں سب مسلمان ہی رکھے گئی،جن پر کبھی بھی کوئی مقدمہ چلا اور نہ ہی کسی عدالت میں انہیں صفائی کا موقع دیا گیا، گوانتا ناموکے اس قید خانے میں انسانوں کو جانوروں کی طرح پنجرے میں بند رکھا جاتا ہے اور انہیں اور نج کلر کا خصوصی لباس پہنایا جاتا ہے۔
اوباما کے پیش رو صدر بش نے سب سے پہلے 11 جنوری 2002ءمیں کو بیڑیاں پہنا کر یہاں بھیجا ان کو امریکا میں رکھنا اور قانونی سہولت فراہم کرنا خطرناک قراردیا گیا۔ ان قیدیوں کی تعداد 800تک پہنچ گئی تھی اور ان سب پر امریکی مفادات کے خلاف کام کرنے، القاعدہ اور طالبان سے تعلق رکھنے کا الزام تھا۔
امریکی صدر اوباما نے 20جنوری 2009ءمیں صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد گوانتا ناموبے کا عقوبت خانہ ایک سال کے اندر بند کرنے کا اعلان کیا تھا مگر اب بھی وہاں 171قیدی مظالم کا شکار ہیں، ان میں سے 135کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ باہر کی دنیا کے لیے خطرناک ہیں اس لیے چھوڑا نہیں جاسکتا۔
اوباما کے وعدے کے باوجودامریکی کانگریس نے قیدخانہ بند کرنے اور قیدیوں کو رہا کرنے پر پابندی عائد کررکھی ہے، ان پر امریکا میں بھی مقدمہ نہیں چل سکتا۔
دوسری طرف امریکا کو حسین حقانی کی فکر ہے کہ اس پر قانونی تقاضوں کے مطابق مقدمہ چلایا جائے اور امریکی انتظامیہ نے اس پر نظرکھی ہوئی ہے۔ یہی نہیں پاکستان کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ پر جس طرح امریکا میں مقدمہ چلا اور کسی ثبوت کے بغیر اسے 86سال کی سزا دی گئی وہ بھی ایک مثال ہے۔
امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق گوانتا ناموبے کے 10سال پورے ہونے پر واشنگٹن ، برلن، میڈرڈ اور لندن میں مظاہرے کیے گئے اور قیدیوں نے بھوک ہڑتال کی ۔ امریکی عوام کی طرف سے احتجاج کے باوجود صدر اوباما نے ایک بل پر دستخط کیے ہیں جس کے مطابق فوج کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ کسی کو بھی مقدمہ چلائے بغیر غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔