’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دارالعلوم زاہدان کے ممتاز استاد مولوی حبیب اللہ مرجانی نے 248دن وزارت انٹیلیجنس اور مرکزی قیدخانہ زاہدان میں گزارنے کے بعد سوموار کے دوپہر کو رہا ہوکر گھر پہنچ گئے۔
جنرل اور انقلابی کورٹس نے مولوی مرجانی کو ایک برس معلق قید کی سزا سنائی تھی۔
دارالعلوم زاہدان میں واقع یونیورسٹی طلباء کے دفتر کے صدر مولوی حبیب اللہ مرجانی کو یکم مئی 2011ء میں انٹیلیجنس اہلکاروں نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ فجر کی نماز کیلیے گھر سے مسجد کی طرف جارہے تھے۔
"پابندیوں میں اضافہ"، "طویل جنگ" اور "پرانی پالیسیوں پر اصرار" ملک کو مزید بحرانوں کی…
لاہور ہائیکورٹ نے افغان میڈیکل طلبہ کو کالجز سے نکالنے کے خلاف درخواستوں پر تحریری…
مغرب میں انسانی حقوق کی جو تاریخ بیان کی جاتی ہے، اسکا آغاز عموماً میگنا…
مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنا سیکیورٹی نظام بنائیں؛ چینی صدر بھی فلسطین کے حق میں…
مکہ دفاعی اتحاد خطے میں امن و استحکام کا ضامن ہے، ترک صدر اردوان