’’سنی آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق دارالعلوم زاہدان کے ممتاز استاد مولوی حبیب اللہ مرجانی نے 248دن وزارت انٹیلیجنس اور مرکزی قیدخانہ زاہدان میں گزارنے کے بعد سوموار کے دوپہر کو رہا ہوکر گھر پہنچ گئے۔
جنرل اور انقلابی کورٹس نے مولوی مرجانی کو ایک برس معلق قید کی سزا سنائی تھی۔
دارالعلوم زاہدان میں واقع یونیورسٹی طلباء کے دفتر کے صدر مولوی حبیب اللہ مرجانی کو یکم مئی 2011ء میں انٹیلیجنس اہلکاروں نے اس وقت گرفتار کیا جب وہ فجر کی نماز کیلیے گھر سے مسجد کی طرف جارہے تھے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید