- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

یہودیوں نے مسجد کو نذرآتش کر کے اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا

مقبوضہ بیت المقدس(مرکز اطلاعات فلسطین) فلسطینی تاریخی شہر مقبوضہ بیت المقدس میں انتہا پسند یہودی آباد کاروں کے ہاتھوں کی مسجد کی شہادت کے مذموم واقعے کے بعد فلسطینی عوام میں شدید اشتعال پایا جا رہا ہے۔ مقبوضہ بیت المقدس کی نمائندہ عوامی کمیٹی نے شہرکے مغرب میں جامع مسجد کی شہادت کو عالم  اسلام اور فلسطینیوں کےخلاف کھلا اعلان جنگ قرار دیا ہے۔
خیال رہے کہ بدھ کے روز شدت پسند یہودی آبادکاروں نے مقبوضہ بیت المقدس کے مغرب میں ایک جامع مسجد میں گھس کر اسے آگ لگا دی تھی جس کے نتیجے میں مسجد کے ساتھ اس میں موجود قرآن پاک کے نسخے اور احادیث مبارکہ کی کتب بھی جل کرخاکستر ہو گئی تھیں۔
القدس کی عوامی کمیٹی کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ “فلسطین میں اسرائیلی حکومتوں کی توسیع پسندی نے انتہا پسند یہودیوں کو مسلمان کی عبادت گاہوں اورمقدس مقامات پر حملوں کا موقع فراہم کیا ہے۔ شہرمیں انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں مسجد کی شہادت پر ہم یہودیوں سے زیادہ اسرائیلی حکومت کو اس قابل مذمت اور افسوسناک واقعے کا ذمہ دارسمجھتے  ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی حکومت فلسطینیوں اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کے حوالے سے جو پالیسی بناتی  ہےیہودی آبادکار اس پرعمل کرتے ہیں۔ مساجد کو نذرآتش کرنے کا واقعہ یہودیوں کے ہاتھوں نہیں بلکہ انتہا پسند وزیراعظم نیتن یاھو کی حکومت کی منظم سازش ہے۔ صہیونی حکومت نے یہودی دہشت گردوں اور انسانیت دشمنوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے جووہ مسلمانوں کی عبادت گاہوں پر حملوں کی صورت میں اپنے مکروہ رویے کا مظاہرہ کررہے ہیں۔
القدس کی کمیٹی نے فلسطینی شہریوں پر زور دیا کہ وہ صبرسے کام لیں  تاہم اپنی مقدس عبادت گاہوں اور مساجد کی خود حفاظت کریں۔ مساجد کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کریں تاکہ انتہا پسندوں کو اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے کا موقع نہ مل سکے۔