واشنگٹن(اردو ٹائمز) امریکی ایوان نمائندگان نے پاکستان کی 70 کروڑ ڈالر کی جزوی امداد روکنے کا بل بھاری اکثریت سے منظور کر لیا ہے۔
امریکی ایوان نمائندگان میں اہم اتحادی ملک پاکستان کی امداد روکنے کے حوالے سے رائے شماری کرائی گئی۔ بل کی حمایت میں 283 اور مخالفت میں 136 ووٹ کاسٹ ہوئے۔ بل حتمی منظوری کے لیے ایون بالا سینیٹ میں بھیجا جائے گا جس پر قوی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہاں سے بھی اسے پاس کرا لیا جائے گا۔ بل میں ایران کی اقتصادی و مالی پابندیوں کی شق بھی شامل ہے جس کی حمایت میں 233 اور مخالفت میں 177 ووٹ ڈالے گئے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر امریکی اعتراضات کے بعد پابندیاں عائد کی گئی ہیں جب کہ افغانستان میں بارودی مواد کی ترسیل کی پاداش میں پاکستان کی جزوی امداد بند کی جا رہی ہے۔
امریکی محکمہ دفاع کی نئی رپورٹ کے بعد پاکستان کی باقی امداد جاری کرنے پر غور کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ امریکی ایوان نمائندگان اور سینیٹ اراکین کے مشترکہ پینل نے پاکستان کی امداد روکنے پراتفاق کیا تھا تاہم امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے گزشتہ روز جاری کیے جانے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ واشنگٹن سے اسلام آبادکی امداد روکی نہیں گئی بلکہ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے افغانستان میں دھماکا خیز مواد کی ترسیل بند کرنے کے لیے پاکستانی اقدامات سے مشروط کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر بل منظور ہوگیا تو اس پر عمل درآمد کے لیے پاکستانی حکومت سے بات چیت کی جائے گی۔ نیٹو حملوں کے بعد پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں کافی کشیدگی پائی جاتی ہے۔
امریکا کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے جانی و مالی وسائل کی قربانی دی جس کا صلہ پاکستان نے ہمیشہ سخت شرائط کے قرضوں، امداد کے حصول میں رکاوٹ اور فوجی چوکیوں پر حملے کی شکل میں حاصل کیا ہے۔