Categories: مشرق وسطی

شام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد 5000 ہو گئی

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کی کمشنر نے بتایا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کی حکومت کی طرف سے حکومت مخالف مظاہرین کے خلاف گزشتہ نو ماہ سے جاری کریک ڈاؤن کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔
اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کی کونسل کی سربراہ ناوی پلے نے سکیورٹی کونسل کے سامنے دی گی بریفنگ میں کہا گیا ہے کہ شام میں شہری ہلاکتوں کی تعداد پانچ ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ دس روز قبل ناوی پلے نے کہا تھا کہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد چار ہزار ہے تاہم حالیہ دنوں میں سکیورٹی فورسز کی تشدد آمیز کارروائیوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔
ناوی پلے نے شام میں موجودہ صورتحال کو ’ناقابل قبول‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اطلاعات کے مطابق وہاں چودہ ہزار سے زائد افراد حراست میں ہیں جبکہ بارہ ہزار چار سو افراد ہمسایہ ملکوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔
ناوی پلے نے خبردار کیا کہ شامی شہر حمص میں صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ یہ وہی شہر ہے جہاں نو ماہ قبل صدر بشار الاسد کے خلاف مظاہروں کا آغاز ہوا تھا اور اسے اب بھی حکومت مخالف مظاہرین کا گڑھ قرار دیا جاتا ہے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے ناوی پلے نے امکان ظاہر کیا کہ وہاں حکومتی مشینری شاید انسانی جرائم کی مرتکب بھی ہو رہی ہے۔ خبر رساں ادارے رائیٹرز نے ناوی پلے کے حوالے سے بتایا کہ آزاد ذرائع سے موصول ہونے والی معتبر معلومات کے مطابق شام میں انسانی حقوق کی پامالی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی جا رہی ہے۔
عالمی ادارے کے انسانی حقوق کی کمشنر نے سلامتی کونسل کو بتایا کہ 230 عینی شاہدین کے ذاتی بیانات کے بعد ان معلومات کو ترتیب دیا گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ شام کی صورتحال پرعالمی فوجداری عدالت سے رجوع کیا جائے۔ ناوی پلے کے بقول شام میں ہلاک ہونے پانچ ہزار افراد میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ہلاکت کو شامل نہیں کیا گیا ہے۔ تاہم دمشق حکومت کے مطابق سیاسی بحران کے دوران اس کے ایک ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکار مارے چا چکے ہیں۔
ناوی پلے نے خبردار کیا کہ اگر عالمی برادری شامی حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے کوئی متفقہ لائحہ عمل تیار نہیں کرتی تو دمشق حکومت شہریوں پر مظالم ڈھانے میں مزید بہادر ہو جائے گی۔ انہوں نے زور دیا کہ شام میں تشدد کو روکنے کے لیے فوری طور پر ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
ناوی پلے کی اس بریفنگ کے بعد جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے نے کہا: ’میں نے شام کی صورتحال کے بارے میں جو کچھ سنا، اس سے مجھے شدید دھچکا لگا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ایسے ممالک جو ابھی تک دمشق حکومت کے خلاف اقدامات کرنے سے ہچکچا رہے ہیں انہیں اپنی سوچ تبدیل کرنا ہو گی۔
دیگر مغربی سفارت کاروں نے بھی ناوی پلے کی بریفنگ کے بعد شام کی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تاہم شامی سفارت کار بشار جعفری نے ناوی پلے کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے حقیقت سے دور قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کا یہ سیشن شامی حکومت کے خلاف کی جانے والی بڑی سازش کا ایک حصہ ہے۔

modiryat urdu

Recent Posts

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت عوام کے معاشی حالات پر توجہ دیں

ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…

2 days ago

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی اجلاس منعقد ہوا

خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…

2 days ago

حجاب اور اسرائیل کے معاملے پر اختلافات، ترکیہ آذربائیجان کے درمیان بڑھتی دوریاں

ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔

6 days ago

فرانس میں مہنگائی کے خلاف پرتشدد احتجاج جاری، وزیراعظم کی کرفیو لگانے کی تجویز

فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…

6 days ago

خطے میں کشیدگی؛ فیلڈ مارشل اہم دورے پر تہران پہنچ گئے

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔

6 days ago

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ آذربائیجان اپنا حکم واپس لیں

جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…

1 week ago