تحریک طالبان پاکستان کے نائب امیر اور باجوڑ طالبان کے اہم کمانڈر مولوی فقیر محمد نے پاک افغان اتحاد کو ضروری قرار دیتے ہوئے قیام امن کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے سنیچر کی صبح پاک افغان سرحدی علاقے سے بی بی سی سے فون پر رابطہ کیا اور کہا کہ مہمند ایجنسی میں فوجی چوکیوں پر ہونے والے نیٹو کے حملے کے بعد پاکستان کی طرف سے جو اقدامات کیے گئے ہیں وہ نہایت خوش آئند ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستان کے موقف میں خودمختاری اور آزادی کی جھلک محسوس ہورہی ہے۔
طالبان کمانڈر نے کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ’موجود حالات میں جب ملک انتہائی سخت حالات سے گزرہا ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ اسلام اور ملک کی خاطر طالبان اور قوم کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے۔‘
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کے تناظر میں بات کرتے ہوئے مولوی فقیر محمد نے بتایا کہ دونوں ممالک میں امن ایک دوسرے کےلیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد اور کابل کو غیر ملکی طاقتوں کی سازشوں کو ناکام بنانا ہوگا اور ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا جبکہ پاکستان کو بھی خطے میں امن قائم کرنے کےلیے اپنی پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی۔‘
مولوی فقیر کا کہنا تھا ’پاکستان کی مٹی، پانی اور ہوا پر پاکستان کا ہی حق ہے کسی اور کا نہیں۔‘
مولوی فقیر محمد اپنے بیان میں بار بار پاک افغان اتحاد پر زور دیتے رہے۔
خیال رہے کہ یومِ عاشور پُرامن طور سے گزرنے پر پاکستان کے وزیرِ داخلہ رحمان ملک نے طالبان کا شکریہ ادا کیا تھا۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…