دبئی(العربیہ ڈاٹ نیٹ ،ایجنساں) شام میں صدر بشارالاسد کے مخالف کارکنان نے ان کی حکومت کی خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کردی ہے جبکہ ملک کے مشرق سے وسطی شہر حمص کی جانب جانے والی تیل کی پائپ لائن کو دھماکے سے تباہ کردیا گیا ہے۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے بتایا ہے کہ ”دھماکے سے تباہ ہونے والی پائپ لائن سے حمص کی ریفائنری کو تیل مہیا کیا جاتا تھا”۔انٹرنیٹ پر پوسٹ کی گئی فوٹیج کے مطابق دھماکے کے بعد پائپ لائن سے آگ کے شعلے بلند ہورہے ہیں اور وہاں سے دھواں بھی اٹھ رہا ہے۔
درایں اثناء شامی مظاہرین نے صدر بشارالاسد کے خلاف سول نافرمانی کی مہم شروع کردی ہے۔انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ گذشتہ اختتام ہفتہ سے اب تک ملک کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں ایک سو سے زیادہ افراد مارے گئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق شامی سکیورٹی فورسز کی جمہوریت نواز مظاہرین کے خلاف مارچ کے وسط سے جاری کریک ڈاٶن کارروائیوں میں مرنے والوں کی تعداد ساڑھے چار ہزار سے بڑھ چکی ہے جن میں تین سو سے زیادہ بچے بھی شامل ہیں جبکہ چودہ ہزار سے زیادہ افراد حکومت کے خلاف تحریک میں حصہ لینے کی پاداش میں اس وقت جیلوں میں بند ہیں۔
لیکن شامی صدر نے گذشتہ روز امریکی ٹی وی چینل اے بی سی نیوز کےساتھ انٹرویو میں اقوام متحدہ کی جانب سے شام میں مظاہرین کی ہلاکتوں کے پیش کردہ اعدادوشمار کی تردید کی اور ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کرنے سے بھی انکار کردیا اور کہا کہ کوئی جنگلی شخص ہی اپنے عوام کو قتل کرنے کا حکم دے سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ کریک ڈاؤن کرنے والی فورسز کے انچارج نہیں ہیں۔
امریکی عہدے داروں نے شامی صدر کے اس انٹرویو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حقیقت سے بالکل کٹے ہوئے ہیں یا پھر وہ خود ایک جنگلی شخص ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر نے بشارالاسد پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تشدد کے خاتمے کے لیے بہت زیادہ مواقع ملے تھے لیکن وہ ایسا کرنے میں ناکام رہے ہیں۔مارک ٹونر کا کہنا تھا کہ یہ بہت ہی مضحکہ خیز بات ہے کہ بشارالاسد خود کو ایک قسم کے گولہ باری کے کھیل میں بچانے کی کوشش کررہے ہیں اور یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ان کا اپنے ہی ملک پر کنٹرول نہیں ہے۔
امریکا ،یورپی یونین ، عرب لیگ اور ترکی کی جانب سے پابندیاں عاید کیے جانے کے باوجود شامی سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔حکومت کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے والی مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ سرکاری فورسز نے جمعرات کو دارالحکومت دمشق اور شمال مغربی صوبے ادلب میں حکومت مخالفین پر بم پھینکے اوربلا امتیازگولہ باری کی ہے۔اس صوبے میں باغی فوجیوں اورسرکاری فورسز کے درمیان جھڑپوں کی بھی اطلاعات ملی ہیں۔ادلب کے قصبے سراقبہ میں شامی فورسز نے حکومت مخالفین کی گرفتاریوں کے لیے گھر گھر تلاشی کی کارروائی کی ہے۔
رابطہ کمیٹیوں نے ایک بیان میں شہریوں پر زوردیا ہے کہ وہ آیندہ اتوار سے اپنے کام کی جگہوں پر دھرنے دیں ،دکانوں ،کاروباری مراکز ،تعلیمی اداروں اور جامعات کو بند رکھیں اور اس کے بعد ٹرانسپورٹ کے نظام کو معطل کردیں اور عام ہڑتال کریں۔ بیان میں ”شامی انقلاب کو غلامی کے خلاف نشاۃ ثانیہ قراردیا گیا ہے”۔