العربیہ کو اپنے ذرائع نے معلوم ہوا ہے کہ “جسٹس اینڈ ڈوپلپمنٹ پارٹی” کو تارکین وطن کے 70 فیصد ووٹ ملے جبکہ قبل از انتخاب رائے عامہ کے جائزوں میں بتایا جا رہا تھا کہ اخوان المسلمون کو اس مرحلے میں سب سے زیادہ نشتیں مل سکتی ہیں۔
مصر کے معزول صدر حسنی مبارک کے مسند اقتدار سے الگ ہونے کے بعد منعقد ہونے والے پہلے آزاد پارلیمانی انتخابات کا پہلا مرحلہ پیر اور منگل خوشگوار فضا میں اختتام پذیر ہوا۔ دو دنوں پر محیط پہلے مرحلے پر عوام کی بڑی تعداد نے ووٹ ڈالے، عوام کی ایسی فقید المثال شرکت کو ملک میں جمہوریت کی جانب پہلا قدم خیال کیا جا رہا ہے۔
دفتر خارجہ کی تردید
ملکی امور کی نگران سپریم فوجی کونسل کے رکن جنرل محمد العصار نے صحافیوں کو بتایا کہ ہم پہلا انقلاب جنوری کا پہلا پھل کھا رہے ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ملڑی کونسل سویلین حکومت کو انتقال اقتدار کی بھاری ذمہ داری بہ طریق احسن ادا کر پائے گی۔
درایں اثنا وزارت خارجہ کے ترجمان عمرو رشدی نے اس بات کی تردید کی کہ بیرون ملک مصری سفارتخانوں نے تارکین وطن کی جانب سے ڈالے گئے ووٹوں کے نتیجے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی خبروں کا عوام کو کوئی فائدہ نہیں ہو گا کیونکہ کسی سفارتخانے میں ووٹوں کی گنتی نہیں کی گئی۔
مسٹر رشدی نے دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا کہ بیرون ملک کوئی بھی سفارتخانہ انتخابی نتائج کے اعلان کا مجاز نہیں ہے۔ بیرون ملک 127 سفارتخانوں سے نتائج جمع کر کے الیکشن کمیشن کے دفتر پہنچائیں جائیں گے اور وہی ان نتائج کے حتمی اعلان کا مجاز ادارہ ہے۔
ادھر پارلیمانی انتخاب کی نگران کرنے والے امریکی مبصرین نے انتخابی عمل کو سراہا ہے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان مارک ٹونر کے بہ قول اب تک مبصرین نے جو کچھ دیکھا ہے وہ مثبت ہے۔ ووٹنگ ٹرن آٶٹ بہت اچھا رہا ہے۔ پہلے اور دوسرے دن تشدد سے پاک ماحول میں ہونے والی پولنگ شاندار انتخابی عمل کی تشکیل کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید