- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

امریکا:مسلمانوں کے تحفظات دورکرنے کے لئے محکمہ انصاف سرگرم

ڈیلس(جنگ نیوز) امریکہ میں مقیم مسلمانوں کے زخموں پر مرہم رکھنے اور ان سے باہمی اعتماد کی فضاء کے قیام کیلئے امریکہ کے محکمہ انصاف کی زیرنگرانی کام کرنے والی ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں،اس ضمن میں امریکہ کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے انسانی حقوق تھامس پریز محکمہ انصاف اور دیگر وفاقی اداروں کے ساتھ ملکر امریکہ بھر میں مقیم مسلم لیڈروں اور مساجد کے اماموں سے ملاقاتیں کررہے ہیں تاکہ باہمی اعتماد کی فضاء کو قائم کیا جاسکے۔
اس سلسلے میں یہاں ڈیلس میں اسلامک ایسوسی ایشن آف نارتھ ٹیکساس کی جانب سے ایک تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس میں اسسٹنٹ اٹارنی جنرل تھامس پریز، یو ایس اٹارنی نادرن ڈسٹرکٹ ٹیکساس سیراسلوینا یو ایس اٹارنی ایسٹرن ڈسٹرکٹ ٹیکساس جے میکسلوم ہیلی اور اسپیشل ایجنٹ انچارج ایف بی آئی رابٹ کیسی سمیت دیگر اہم سرکاری افسران نے شرکت کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے محکمہ انصاف کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل برائے انسانی حقوق تھامس پریز نے کہا کہ ہمارا فوکس قطعی طور پر مسلمان نہیں ہیں بلکہ ہمارا فوکس صرف اور صرف جرائم اور جرائم پیشہ افراد ہیں، مسٹر پریز نے کہا کہ امریکا ہم سب کا ہے اور ہمیں اپنے بچوں اور ملک کی حفاظت کیلئے ایک ساتھ ملکر کام کرنا ہوگا،بعدازاں جنگ/جیونیوزسے خصوصی گفتگوکرتے ہوئےFBI نارتھ ٹیکساس کے سربراہ (انچارج) رابٹ کیسی نے کہا ہے کہ مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں لیڈروں اور میڈیا کے افراد سے ملاقات کا مقصد کمیونٹی میں موجود تحفظارت پر بات چیت کرنا اور FBI کی جرائم کے خلاف اور نیشنل سیکورٹی کے حوالے سے کام کے بارے میں معلومات کمیونٹی تک پہنچانا ہے،ان سے جب یہ پوچھا گیا کہ مسلمان کمیونٹی کے افراد کی یہ شکایت رہی ہیں کہ 9/11 کے واقعات کے بعد FBI کی جانب سے ان کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا گیا، لہٰذا اب FBI کی کیا پالیسیاں ہیں؟ اس پر رابٹ کیسی نے کہا کہ ہماری تمام تر پالیسیاں اٹارنی جنرل کی ہدایات پر منحصر ہوتی ہیں،دریں اثناء یو ایس اٹارنی ڈسٹرکٹ نادرن (ٹیکساس) سیراسلوینا سے بات چیت کرتے ہوئے جب ان کی توجہ ڈیلس کے بعض ریڈیو پروگراموں کی طرف مبذول کراتے ہوئے بتایا گیا کہ کئی ریڈیو پروگراموں میں مسلسل مسلمانوں کے خلاف زہریلا پروپیگنڈا کیا جارہا ہے، جس سے یہاں پر رہنے والے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہے جبکہ ایسے پروگراموں کی وجہ سے مزید نفرتیں جنم لے رہی ہیں اس پر انہوں نے کہا کہ اخلاقی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کسی کی بھی دل آزاری کرنا درست بات نہیں تاہم امریکی قانون کے تحت ہر کسی کو تحریر و تقریر کی مکمل آزادی ہے اور فریڈم آف اسپیج کے تحت کسی کی زبان پرکوئی قدغن نہیں لگائی جاسکتی لہٰذا اس سلسلے میں ہمارا محکمہ ان پروگراموں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرسکتا۔
اس موقع پر خالد حمید نے کہا کہ باہمی عزت و احترام کے ساتھ ہم ایک ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔تقریب سے امام یوسف کواچی نے بھی خطاب کیا ۔قبل ازیں اسلامک ایسو سی ایشن کے چیئرمین محسن منہ یویا سمیت نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔اس موقع پر عشائیہ کا بھی اہتمام کیا گیا۔