عرب لیگ کے قاہرہ میں واقع ہیڈکوارٹرز میں ہفتے کے روز وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شامی صدر بشارالاسد کے مخالفین پر ان کی سکیورٹی فورسز کے جاری کریک ڈاٶن سے پیدا ہونے والی صورت حال پر غور کیا گیا۔عرب وزرائے خارجہ نے اجلاس میں شام کی رکنیت معطل کرنے کی منظوری دی ہے اور کہا ہے کہ شامی صدر بشارالاسد کی حکومت کے خلاف سیاسی اور اقتصادی پابندیاں عاید کردی جائیں گی۔
عرب وزرائے خارجہ نے شامی فوج پر بھی زوردیا ہے کہ وہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ ختم کردے۔انھوں نے شامی حزب اختلاف کو انتقال اقتدار کے لیے بات چیت کی دعوت دی ہے۔شامی حزب اختلاف عرب لیگ سے اپنے ملک کی رکنیت معطل کرنے کا مطالبہ کررہی تھی جبکہ یمن ،لبنان اور عراق نے شام کی رکنیت معطل کرنے اور دمشق سے عرب سفیر واپس بلانے کی مخالفت کی ہے۔
عرب لیگ میں شام کے نمائندے یوسف احمد نے تنظیم کی جانب سے اپنے ملک کی رکنیت معطل کرنے کے فیصلہ کو تنظیم کے چارٹر کی خلاف ورزی قراردیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اور امریکی ایجنڈے پر عمل کیا جارہا ہے۔
شام کے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ شام کو عرب لیگ کی سرگرمیوں اور اجلاسوں میں حصہ لینے سے روکنے کا فیصلہ صرف عرب سربراہ اجلاس میں اتفاق رائے سے ہی کیا جاسکتا ہے۔
عرب لیگ کے وزارتی اجلاس کے بعد قطر کے وزیرخارجہ شیخ حمد بن جاسم نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ تنظیم کے اٹھارہ ممالک نے شام کو معطل کرنے کے فیصلہ سے اتفاق کیا ہے اور اس پرآیندہ بدھ سے عمل درآمد ہوگا۔شام ،لبنان اور یمن نے اس کے خلاف ووٹ دیا ہے جبکہ عراق رائے شماری کے وقت غیر حاضر رہا۔انھوں نے کہا کہ اگر شام نے عرب امن منصوبے پر چار روز میں عمل نہ کیا تواس پر سیاسی اور اقتصادی پابندیاں عاید کرنے پر بھی غور کیا جائے گا۔
شیخ حمد بن جاسم کا کہنا تھا کہ ”شام ہم سب کے لیے ایک پیارا ملک ہے اور ہمیں اس فیصلے پر تکلیف ہورہی ہے۔ہمیں امید ہے کہ شام کی جانب سے تشدد کو روکنے کے لیے دلیرانہ فیصلہ کیا جائے گا اور حقیقی اصلاحات کے لیے مذاکرات کا عمل شروع کیا جائے گا”۔
عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل نبیل العربی نے کہا کہ شام کے پاس تنظیم کے مطالبات کو پورا کرنے کے لیے چار دن کا وقت ہے۔انھوں نے کہا کہ تنظیم شام پر جولائی کے وسط سے خونریزی روکنے کے لیے دباٶ ڈال رہی ہے لیکن شام ایسا کرنے میں ناکام رہا ہے۔
قبل ازیں قاہرہ سے العربیہ نے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں بتایا کہ لبنان، یمن اور الجزائر شام کی رکنیت منجمد کرنے کی مخالفت کرتے رہے ہیں۔ خلیجی ممالک دمشق کی رکنیت منجمد کرنے کے فیصلے کے حامی تھے جبکہ مصر کی کوشش رہی ہے کہ دونوں نکتہ ہائے نظر میں سے کوئی درمیانی راہ نکال لی جائے تاکہ شام کے عام شہریوں کے خلاف مظالم میں کمی لائی جا سکے۔
مصر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی مڈل ایسٹ نیوز ایجنسی “مینا” نے بتایا کہ اجلاس میں شرکت کے لیے مسقط سے آنے والے اومانی وزیرخارجہ یوسف بن علوی اجلاس کے آغاز سے پہلے ہی اچانک اپنے خصوصی طیارے میں وطن واپس روانہ ہو گئے۔
شامی حکومت کی جانب سے عرب لیگ کے منصوبے پر دستخط کے بعد سے اب تک سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں 280 سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں اور بشارالاسد کی حکومت نے عرب لیگ کے پیش کردہ امن سمجھوتے سے اتفاق کے باوجود حکومت مخالفین کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھا ہواہے۔
عرب لیگ کی وزارتی کمیٹی کی جانب سے پیش کردہ امن منصوبہ کے تحت شامی حکومت نے شہروں سے فوج اور ٹینکوں کو ہٹانے سے اتفاق کیا تھا اور سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہرکی تھی۔ شامی حزب اختلاف عرب لیگ کے امن منصوبے کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کرچکی ہے اور اس کے لیڈروں کا کہنا ہے کہ عرب امن منصوبے پر عمل درآمد کا مطلب صدر بشارالاسد کی حکومت کا خاتمہ ہوگا اور شامی صدر کبھی ایسا نہیں چاہیں گے۔
درایں اثناء فرانس سے شائع ہونے والے اخبار “لی فگارو” نے دعوی کیا ہے کہ سابق صدر حافظ الاسد کے بھائی رفعت الاسد شام کے مستقبل کے سلسلے میں کل پیرس میں ہونے والی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔اخبار کے مطابق رفعت کے شامی حکومت سے اختلاف تھے۔ تاہم گذشتہ کچھ عرصے سے انہوں نے حکومت سے میل جول بڑھا دیا تھا۔ اس قرابت کے باوجود انہوں نے شام کے اندر اصلاحات کے مطالبے سے دست برداری اختیار نہیں کی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…