- سنی آن لائن - https://sunnionline.us/urdu -

شام:جھڑپوں اور فوج کی کارروائیوں میں 30 سے زیادہ افراد ہلاک

دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام کے مختلف شہروں میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ اور جھڑپوں میں سترہ فوجیوں سمیت تیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ شامی سکیورٹی فورسز نے وسطی شہر حمص اور قامشلی میں حکومت مخالفین کے خلاف کارروائی جاری رکھی ہوئی ہے۔
لندن میں قائم شام آبزرویٹری برائے انسانی حقوق نے سوموار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ حمص میں سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاٶن میں سات شہری ہلاک ہوئے ہیں جبکہ سات دوسرے شہروں میں مارے گئے ہیں۔اس تنظیم کے مطابق سترہ فوجی شام کے دوسرے شہروں میں باغی فوجیوں کے ساتھ جھڑپوں میں مارے گئے ہیں۔باغی فوجیوں نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کردیا تھا جس کے بعد ان کی سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں شروع ہوگئیں ۔
صدر اسد کے خلاف مظاہروں کو منظم کرنے والی تنظیم مقامی رابطہ کمیٹیوں کا کہنا ہے کہ حمص میں اتوار کو جنگ کا منظر نظر آرہا تھا اور پورے شہر سے بم دھماکوں اور مشین گنوں کی فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہی ہیں۔تنظیم سے وابستہ ایک کارکن نے بتایا کہ شہر میں بمباری سے متعدد مکانات تباہ ہوگئے ہیں اور نو افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے ہیں۔
ادھر شام کے مشرقی شہر قامشیلی میں شامی فوج نے اتوار کی رات حکومت مخالفین پر دھاوا بول دیا۔قامشلی میں ہفتے کے روز کرد سیاسی لیڈر مشعل التمو کی نمازجنازہ میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی تھی اور انھوں نے شامی صدر بشارالاسد کے خلاف مظاہرہ کیا تھا۔ مشعل التمو کو جمعہ کے روز نامعلوم مسلح افراد نے قامشلی میں ان کے گھر میں گولی مار کر قتل کردیا تھا۔
درایں اثناء شامی فوج کو خیرباد کہنے والے افسروں اور جوانوں کے لیڈر کرنل ریاض الاسعد نے صدر بشارالاسد کا تختہ الٹنے کے لیے دوسرے ممالک سے فوجی امداد کی اپیل کی ہے۔
انھوں نے روزنامہ الحریہ میں سوموار کو شائع ہونے والے ایک بیان میں عالمی برادری سے آزاد شامی فوج کے لیے ہتھیار مہیا کرنے کی اپیل کی ہے لیکن شام میں براہ راست کسی دوسرے ملک کی مداخلت مسترد کردی ہے۔انھوں نے کہا کہ اگر عالمی برادری ہماری مدد کرتی ہے تو پھر ہم صدر بشارالاسد کا تختہ الٹ سکتے ہیں لیکن ہمیں اس بات کا یقین ہے کہ ہتھیاروں کے بغیر جدوجہد بہت مشکل ہوگی۔تاہم ہم میں سے کوئی بھی کسی دوسرے ملک کی شام میں مداخلت کے حق میں نہیں ہے۔کرنل ریاض الاسعد جولائی سے ترکی کے سرحدی کیمپ میں مقیم ہیں اور وہاں سے حزب اختلاف اور باغی فوجیوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔

لیبیا: “این ٹی سی” نے شامی باغی کونسل تسلیم کر لی، سفارت خانہ بند
ادھر لیبیا میں سابق معزول صدر کرنل معمر قذافی کے بعد قائم ہونے والی عبوری کونسل”این ٹی سی” نے شام کی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل عبوری نیشنل کونسل کو تسلیم کرتے ہوئے طرابلس میں شامی سفارت خانہ بند کر دیا ہے۔
“العربیہ ڈاٹ نیٹ” کے مطابق لیبیا کی عبوری کونسل کے ایک رکن موسیٰ الکونی نے طرابلس میں ایک نیوز کانفرنس کےدوران بتایا کہ انہوں نے پیرکے روز”این ٹی سی” کےایک ہنگامی اجلاس میں شامی اپوزیشن جماعتوں پرمشتمل عبوری کونسل کوملک کی نمائندہ جماعت کے طورپر تسلیم کرلیا ہے۔ جس کے بعد لیبیا میں شام کا سفارت خانہ اوردیگرقونصل خانے بند کردیے گئے ہیں۔
بعد ازاں فرانسیسی خبر رساں ایجنسی “اے ایف پی” سے بات کرتے ہوئے موسیٰ الکونی نے کہا کہ لیبیا کی نئی حکومت نے شام کی قومی عبوری کونسل کو ملک کی واحد نمائندہ اورآئینی حکومت کے طورپرتسلیم کرلیا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ شامی باغیوں کی قائم کردہ کونسل کوباضابطہ طورپرتسلیم کرلیا گیا ہے اور اس فیصلے کے اعلان کی ذمہ داری انہیں سونپی گئی تھی۔
ایک سوال کے جواب میں موسیٰ الکونی کاکہنا تھا کہ”ہم نے شامی اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل عبوری کونسل کواس لیے تسلیم کیا ہے کیونکہ لیبیا کےعوام کرنل قذافی کے جن مظالم کا شکار تھے، شام کے عوام بھی بشار الاسد اوران کی وفادار فوج کے ہاتھوں اسی نوعیت کے مصائب کا شکارہیں۔ کرنل قذافی نے بھی اپنا اقتدار بچانے کے لیے عوام پر فوج مسلط کردی تھی اورب شار الاسد بھی محض اپنی حکومت بچانے کے لیے ریاستی دہشت گردی کے مرتکب ہیں۔ ایسے میں مظلوم شامی عوام کی ہرممکن مدد اور حمایت ہمارا فرض ہے۔ اس کے لیے ہم نے ضروری سمجھا کہ باغیوں کی قائم کردہ عبوری کونسل کو ملک کی واحد عوامی نمائندہ حکومت کےطور پر تسلیم کرتے ہوئے اس کے ساتھ معاملات طے کیے جائیں”۔
لیبی لیڈرکا کہنا تھا کہ طرابلس شامی عبوری کونسل کوتسلیم کرنے والا پہلا ملک ہے، اس کے بعد شامی کونسل کوتسلیم کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔
خیال رہے کہ شام میں اپوزیشن جماعتوں، لبرل اور مذہبی جماعتوں بالخصوص شام میں کالعدم مذہبی جماعت اخوان المسلمون پر مشتمل حکومت مخالف رہ نماؤں نے دو اکتوبرکوترکی کے شہر استنبول میں ہوئے ایک اجلاس میں اپنی باضابطہ کونسل کا اعلان کیا تھا۔
لیبیا کی عبوری کونسل کی جانب سے اپنی شامی ہم عصرکونسل کو تسلیم کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب شامی صدر بشارالاسد نے عبوری کونسل کو تسلیم کرنے والے ممالک کوسنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں۔
حال ہی میں شامی وزیر خارجہ ولید المعلم نے خبردار کیا تھا کہ جو بھی ملک عبوری کونسل کو تسلیم کرے گا، ہم اس کےخلاف سخت ایکشن لیں۔ یورپی یونین کی جانب سے شامی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو توسراہا گیا ہے تاہم فی الحال اسے شام میں ایک متبادل حکومت کے طورپرتسلیم نہیں کیا گیا۔