دمشق(العربیہ ڈاٹ نیٹ) شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا ریکارڈ رکھنے والی “آبزرویٹری” کا کہنا ہے کہ پہلی رمضان المبارک کو بشار الاسد کی حامی فوج کی متعدد شہروں میں فائرنگ سے 24 افراد کے ہلاک ہو گئے۔
آبزرویٹری کے مطابق: ” پیر کے روز سرکاری فوج اور اجرتی قاتلوں کی گولیوں کا نشانہ بننے والے عام شہریوں کی تعداد 24 تھی، ان میں 10 ہلاکتیں شام کے مختلف شہروں میں نماز تراویح کے بعد نکلنے والے احتجاجی مظاہروں میں ہوئیں۔”
حماہ سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے شہر کے مختلف اہستپالوں سے زخمیوں کے لئے خون کے عطیات کی اپیلیں کی جاتی رہیں۔ اس کے ساتھ عراقی سرحد کے قریب واقع دیر الزور کے علاقے میں مواصلات کا نظام درہم برہم کرنے کے بعد وہاں پر فوجی کارروائی جاری ہے۔
انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے رضاکاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے دمشق کے قریبی شہر الزبدانی میں فوج کے تازہ دم دستے ارسال کئے جا رہے ہیں، جو شہر کو جانے والے راستوں پر ناکے لگا رہے ہیں۔
پہلی رمضان کو شامی فوج کی جانب سے حماہ کی متعدد مساجد پر گولا باری کی وجہ سے اہل علاقہ کو نماز ادائی کی جگہ نہیں مل سکی۔ انسانی حقوق کے رضاکاروں کا کہنا ہے کہ حماہ کے متعدد شہروں پر شامی فوج کی گولا باری کا سلسلہ جاری ہے اور زمین پر سیکیورٹی اہلکاروں کے آپریشن میں متعدد افراد کے ہلاک و زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
اہالیاں حماہ کے مطابق شہر کی جیل میں بغاوت ہونے پر سیکیورٹی فورسسز نے صورتحال پر قابو پانے کے لئے قیدیوں کی بارکوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس متعدد قیدیوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ شہر کے کڑے محاصرے اور گولا باری کے باوجود اہالیاں حماہ نے بعض مساجد سے نماز تراویح کے بعد رات گئے احتجاجی مظاہرے کئے۔
سیکیورٹی فورسسز نے شارع الملعب سے نکالے جانے والے مظاہرے پر بھی فائرنگ کی، جس سے متعدد افراد زخمی ہوئے۔ بڑی تعداد میں زخمیوں کے لئے الملعب کالونی کے کلینکس میں خون کمیاب ہو گیا ہے، جس کے بعد شہریوں سے خون کے عطیات کی اپیل کی جا رہی ہے۔