کراچی(ايجنسياں) دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے ملک پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے شہر کراچی میں رواں ماہ کے 29 دنوںمیں ٹارگیٹ کلنگ اور دہشتتگردی کے واقعات میں 286 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دی نیوز ٹرائب کو دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے دوسرے بڑے صوبے سندھ کے دارالحکومت کراچی میں گذشتہ کئی ماہ سے کشیدگی جاری ہے جبکہ دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات میں کمی کے بجائے اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں امن امان قائم کرنے کیلئے حکومت نے رینجرز اور پولیس کے بعد فرنٹیئر کانسٹیبلری کو بھی طلب کر لیا ہے جبکہ صوبہ سندھ میں نئے آئی جی پولیس واجد درانی نے اپنی تعیناتی کے بعد شہر کے ڈی ایس پیز اور ایس ایچ اوز کے تبادلے بھی کئے تاہم پولیس دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ روکنے میں ناکام ہوگئی۔
دستیاب معلومات کے مطابق پاکستان کی شہ رگ سمجھے جانے والے شہر کراچی میں یکم جولائی سے 29 جولائی تک 286 افراد کی زندگی کے چراغ گل کردئے گئے جبکہ دہشتگردی اور فائرنگ کے واقعات میں 400 سے زائد افراد زخمی ہوگئے، شہر میں فائرنگ اور کشیدگی کے واقعات کے باعث مشتعل افراد نے 60 سے زائد گاڑیوں کو بھی جلا ڈالا۔
رواں ماہ کے تین دن 5 جولائی سے 8 جولائی تک اورنگی ٹائون، بنارس، کٹی پہاڑی، قصبہ موڑ، مبینہ ٹائون، میٹرو سینما، سائٹ، میٹرو ول، ملیر، لاندھی، منگھو پیر، لیاری اور گلستان جوھر سمیت دیگر علاقوں میں دہشتگردوں نے فائرنگ کرکے 100 سے زائد افراد کو موت کی نیند سلادیا تھا ، ہلاک ہونے والے 100 افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
شہر میں 5 سے 8 جولائی تک شہر پسندوں نے مختلف علاقوںمیں متعدد گاڑیوں، فیکٹریوں اور ہوٹلوں کو جلا دیا جبکہ تین دن کے بعد رینجرز اہلکاروں نے متاثرہ علاقوں کا کنٹرول سنبھالا۔
عالمی شہرت یافتہ شہر کراچی میں ایک بار پھر 23 جولائی سے29 جولائی تک دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات میں 84 افراد ہلاک ہوگئے جبکہ رواں ماہ کے دیگر ایام میں ٹارگیٹ کلنگ اور پر تشدد واقعات میں دیگر 100 افراد ہلاک ہوئے۔
پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں دہشتگردی اور ٹارگیٹ کلنگ کے واقعات کے خلاف ملک کی مختلف سیاسی و سماجی جماعتوں سے شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن حکومت سندھ کا ماننا ہے کہ شہر کے حالات کنٹرول میں ہے۔
پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے کراچی کی ہلاکتوں سے متعلق کہا تھا کہ شہر میں 100 میں سے 70 افرا د اپنی بیویوں یا گرل فرینڈ کے ہاتھوں قتل ہوتے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور صوبائی وزیر داخلہ منظور وسان کو اکثر یہ کہتےہوئے دیکھا گیا ہے کہ ہر قتل ٹارگیٹ کلنگ اور دہشتگردی کا واقعہ نہیں ہوتا۔