العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آخری اطلاعات آنے تک عبدالفتاح یونس کے قتل کا سبب معلوم نہیں ہو سکا تاہم اتنا پتا چلا ہے کہ انہیں جمعرات کے روز علی الصباح اپوزیشن کے کچھ رہ نماؤں نے محاذ جنگ سے واپس بنغازی بلا لیا تھا۔ ان کے ساتھ قتل کیے جانے والے افسران میں ناصر المذکور اور محمد خمیس کے نام بتائے جا رہے ہیں۔
العربیہ کے نامہ نگاروں کو ملنے والی اطلاعات میں ابھی تک یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ اپوزیشن کی قیادت نے اُنہیں قذافی کے خلاف محاذ جنگ سے کیوں واپس بلایا تھا, تاہم کچھ افواہیں اس طرح کی گردش کر رہی ہیں کہ عبدالفتاح کے کرنل قذافی کے ساتھ خفیہ رابطے تھے اور وہ ان سے پس چلمن مذاکرات بھی کر رہے تھے۔
باغی کونسل کے ذرائع نے العربیہ کوبتایا کہ بدھ کی شام جنرل عبدالفتاح یونس البریقہ شہر میں تھے جہاں جمعرات کو اُنہیں بنغازی بلا لیا گیا تھا۔
عبوری کونسل کے ایک دوسرے رکن نے کہا ہے کہ عبدالفتاح ابھی تک بنغازی میں ہیں، لیکن خراب حالات کے باعث وہ میدان جنگ سے واپس آگئے ہیں۔ دیگرعہدیدار اُنہیں واپس محاذ پر جانے پرقائل کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ عبدالفتاح یونس کو اس سال 22 فروری کو کرنل قذٓاقی کی حکومت سے علاحدگی اور باغیوں میں شامل ہونے کے بعد باغی کونسل کے وزیر داخلہ اور پبلک سیکرٹیریٹ کا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا۔
عبدالفتاح یونس کی کرنل قذافی سےعلاحدگی کو کرنل کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا تھا، کیونکہ وہ وزیر انصاف مصطفیٰ عبدالجلیل کے بعد وہ ملک کے دوسرے بڑے اور کرنل کے مقرب خاص تھے جنہوں نے وزارت داخلہ کے عہدے سے استعفیٰ دے کر باغیوں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔
ایرانی عوام شدید ترین مہنگائی کا سامنا کر رہے ہیں؛ حکومت، پارلیمان اور نظامِ حاکمیت…
خراسان کے اہلِ سنت کا بارہواں فقہی مشاورتی اجلاس جمعرات کی صبح، 22 اکتوبر 2026ء…
ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات میں تناؤ بڑھنے لگا ہے۔
فرانس کے وزیرِاعظم سیباستیان لیکورنو نے پیر کے روز مختلف علاقوں میں محدود پیمانے پر…
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اہم دورے پر ایرانی دارالحکومت تہران پہنچ گئے۔
جمہوریہ آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب پر پابندی جمہوریت کے اصولوں کے خلاف ہے؛ صدرِ…