حکام نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سنئیر فوجی افسر ۔۔۔۔۔ ایک میجر اور ایک لیفٹیننٹ کرنل ۔۔۔۔ بھی شامل ہیں اور اکیس فوجی زخمی ہوئے ہیں۔عدن میں گذشتہ دو ماہ میں یمنی فوج پر یہ دوسرا بم حملہ ہے۔یمنی حکام اس سے پہلے متعدد مرتبہ متنبہ کر چکے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو عدن میں فوج کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
القاعدہ کے جنگجوٶں نے مئی سے یمن کے جنوبی صوبے ابین کے دوشہروں پر قبضہ کررکھا ہے اور وہاں ان کے اور سرکاری فوج کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی جاری ہے۔ یمن میں گذشتہ چھے ماہ سے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس دوران القاعدہ کے جنگجوٶں کو ملک کے بدامنی کا شکار جنوبی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید