حکام نے بتایا ہے کہ مرنے والوں میں دو سنئیر فوجی افسر ۔۔۔۔۔ ایک میجر اور ایک لیفٹیننٹ کرنل ۔۔۔۔ بھی شامل ہیں اور اکیس فوجی زخمی ہوئے ہیں۔عدن میں گذشتہ دو ماہ میں یمنی فوج پر یہ دوسرا بم حملہ ہے۔یمنی حکام اس سے پہلے متعدد مرتبہ متنبہ کر چکے ہیں کہ جزیرہ نما عرب میں القاعدہ سے وابستہ جنگجو عدن میں فوج کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔
القاعدہ کے جنگجوٶں نے مئی سے یمن کے جنوبی صوبے ابین کے دوشہروں پر قبضہ کررکھا ہے اور وہاں ان کے اور سرکاری فوج کے درمیان وقفے وقفے سے لڑائی جاری ہے۔ یمن میں گذشتہ چھے ماہ سے صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف عوامی احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور ان سے اقتدار چھوڑنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔اس دوران القاعدہ کے جنگجوٶں کو ملک کے بدامنی کا شکار جنوبی علاقوں میں اپنے قدم جمانے کا موقع مل گیا ہے۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…