دوسری جانب وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کی جانب سے لاپتا بلوچوں کی عدم بازیابی ، مسخ شدہ او ربوری بندلاشوں کی برآمدگی کے خلاف جمعرات کو کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی ‘ریلی کے شرکاءگورنر ہاﺅس کے سامنے دھرنا دینا چاہتی تھے لیکن پولیس نے روک دیا۔
اطلاعات کے مطابق ڈیرہ اللہ یار کے علاقے بائی پاس پر ایک ہوٹل کے قریب نامعلوم مسلح افرادکی جانب سے موٹرسائیکل میں نصب ریموٹ کنٹرول بم اس وقت پھٹ گیا جب او جی ڈی سی ایل کا قافلہ وہاں سے گزررہا تھا جس کے نتیجے میں 5افراد خدابخش ، محمد نواز ، فریداحمد اور دیگر 2نامعلوم افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے ۔ جنہیں فوری طور پر مقامی ہسپتال منتقل کردیاگیا ۔
ادھروائس فار بلوچ مسنگ پرسن کی جانب سے لاپتابلوچوں کی عدم بازیابی ، مسخ شدہ او ربوری بندلاشوں کی برآمدگی کے خلاف کوئٹہ میں احتجاجی ریلی نکالی گئی‘ریلی کے شرکاءگورنر ہاﺅس کے سامنے دھرنا دینا چاہتے تھے لیکن جیسے ہی وہ کمشنر آفس کوئٹہ کے سامنے پہنچے تو پولیس نے انہیں آگے جانے سے روک دیا ۔
پولیس کی جانب سے روکے جانے کے خلاف مظاہرین نے سڑک پر دھرنا دیا اور کمشنر سمیت انتظامیہ کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وائس فار بلوچ مسنگ پرسن کے چیئرمین نصراللہ بلوچ ودیگر نے کہا کہ سیکڑوں بلوچ جوان گزشتہ کئی سالوں سے لاپتا ہیں لیکن انہیں منظر عام پر نہیں لایا جارہا جو کہ قابل مذمت ہے۔انہوں نے کہا کہ لاپتا نوجوانوں کی بازیابی اورر ہائی کے بجائے ان کی مسخ شدہ لاشیں ویرانوں میں پھینکی جارہی ہیں جبکہ اب تو ان کی بوری بند لاشوں کی برآمدگی کا بھی سلسلہ شروع ہوگیا ہے ۔
انہوںنے کہا کہ لاپتا بلوچ نوجوانوں کی بازیابی کے لیے ہمیںاحتجاج کا جمہوری حق بھی حاصل نہیں جس کا واضح ثبوت آج ہمیں گورنر ہاﺅس کے سامنے احتجاج کرنے سے روکنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی یہاں بلوچ سرزمین پر حق حاکمیت کی بات کرتا ہے اسے اٹھا کر غائب کردیا جاتا ہے ۔علاوہ ازیں تربت میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو زخمی کردیا۔
معیشت اپنے حال پر چھوڑ دی گئی ہے / ایران میں نسلی اور مسلکی حکومت…
’یہاں عام لوگوں کا جانا ممنوع ہے‘: قندھار میں ملا عمر کی رہائش گاہ ’سرائے…
اجین کی 636 سالہ قدیم شاہی مسجد مسماری کی زد میں، مسلمانوں کا شدید احتجاج
غزہ میں قابض صہیونی فوج کی فائرنگ اور بمباری کے نتیجے میں چار فلسطینی شہید