کابل(اے ایف پی /جنگ نیوز) فرانسیسی فوج نے افغان دارالحکومت کابل کے قریب صوبہ کاپسیامیں اسکول پر میزائل حملہ کردیا جس کے نتیجے میں پرنسپل اور 4 طلبہ سمیت 5 افرادجاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔ دوسری جانب افغان حکومت نے جلال آبادبینک ڈکیتی میں مبینہ طورپر ملوث ایک پاکستانی باشندے سمیت2افرادکو سزائے موت دے دی جبکہ ان کے تیسرے شریک ملزم کو 20سال جیل کی سزاہوئی ہے۔افغان حکام کے مطابق زراجم نامی پاکستانی باشندے کی لاش کابل میں پاکستانی سفارتخانے کے حوالے کردی گئی جبکہ دوسرے مزاحمت کارمطیع اللہ کی لاش جلال آبادمیں ان کے اہلخانہ کے حوالے کردی گئی ہے۔ہے تاہم پاکستانی سفیر برائے افغانستان نے افغان حکام کے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں تنازع کا باعث بننے والے عجم نامی باشندے کی لاش وصول نہیں کی ہے۔
افغان ذرائع نے غیرملکی خبررساں ادارے کو تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ فرانسیسی فورسز نے وسطی افغانستان کے صوبے کاپسیا کے ضلع تگاب میں میزائل سے ا سکول کو نشان بنایا۔
ادھر افغان صوبہ کاپسیا کی صوبائی کونسل نے بھی واقعہ میں ہلاکتوں کی تصدیق کردی ہے۔ افغان حکام اور دیگر مقامی ذرائع نے سکول پرنسپل کے جاں بحق اور سات افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے فرانسیسی فوج یا نیٹو کی طرف سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے زخمیوں کو ہسپتالوں میں پہنچا دیا گیا ہے جہاں کئی کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔
دوسری جانب شمالی صوبہ تخار کے ضلع ناؤ آباد میں افغان و نیٹو فورسز نے مشترکہ آپریشن کے دوران بارہ طالبان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے تاہم مزید تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں۔
ادھر طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے نامعلوم مقام سے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اتحادی فورسز کی کارروائی کی تصدیق کی ہے تاہم کہا ہے کہ گرفتار ہونے والے تمام افراد عام شہری ہیں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ اس دوران اتحادی فورسز اور طالبان جنگجوؤں کے درمیان جھڑپ بھی ہوئی جو دو گھنٹے سے زائد جاری رہی جس کے دوران ایک لڑاکا ہیلی کاپٹر بھی مار گرایا گیا ہے تاہم صوبائی حکومت کے ترجمان فیض اللہ توحیدی نے طالبان ترجمان کے اس دعویٰ کی تردید کی۔