کابل(مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان میں طویل جنگ کے خاتمے کیلئے امریکا اور کئی بین الاقوامی طاقتیں طالبان سے مذاکرات میں مصروف ہیں۔
افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ طالبان سے امن مذاکرات جاری ہیں،غیرملکی افواج اور خاص طور پرامریکاخود مذاکرات کررہاہے‘ کئی سفارتکارپہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے مذاکرات چند ماہ سے جاری ہیں۔ صدرکرزئی پہلے شخص ہیں جنہوں نے سرکاری سطح پرعسکریت پسندوں سے مذاکرات کی تصدیق کردی ہے۔امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا تھا کہ رواں سال کے آخر تک طالبان کے ساتھ سیاسی مذاکرات ہوسکتے ہیں۔افغانستان کے صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ امریکا طالبان کے ساتھ امن مذاکرات میں حصہ لے رہا ہے۔حامد کرزئی نے امریکی حکام کے ساتھ بات چیت میں شامل طالبان رہنماوں کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
طالبان اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا انکشاف اعلیٰ سطح پر افغان صدر نے پہلی بار کابل میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کیا۔حامد کرزئی نے کہا تھاکہ بیرونی افواج اور خاص طور پر امریکا خوداس گروپ کے ساتھ امن بات چیت میں شامل ہے۔
امریکا اس سال جولائی سے افغانستان میں تعینات اپنی 97 ہزار فوج کا انخلاءشروع کر رہا ہے جس کا مقصد 2014ءتک تمام سیکورٹی ذمہ داریاں افغان سیکورٹی فورسز کے سپرد کرنا ہے۔طالبان کا موقف ہے کہ مذاکرات صرف افغان حکومت کے ساتھ ہی کیے جائیں گے لیکن اس کے لیے شرط یہ ہی ہے کہ پہلے بین الاقوامی افواج افغانستان سے چلی جائیں۔کابل میں امریکی سفارتخانہ نے حامد کرزئی کے بیان پر تبصرہ سے انکارکردیا۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے مذاکرات سے متعلق خبروں کی ترید کی ہے۔ذبیح اللہ مجاہد کاکہنا تھا کہ ماضی میں بھی مذاکرات کرنے کادعویٰ کیا گیا تھا تاہم نے اس کی بھی ترید کی تھی۔