کوئٹہ سے بی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق بدھ کو بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس قاضی فائز عیسی اور جسٹس نعیم اختر افغان پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پولیس سرجن ڈاکٹر سید باقر شاہ پر ہونے والے تشدد سے متعلق آئینی درخواست کی سماعت کی۔
اس دوران پولیس حکام کی جانب سے عدالت کو بتایاگیا کہ اس سلسلے میں تھانہ سٹی اور گوالمنڈی کے ایس ایچ اوز کو فوری طور پر ڈی آئی جی آپریشن کے حکم پر معطل کردیا گیا ہے۔
جس پر عدالت نے مذکورہ ایس ایچ اوز کو وردیوں میں ملبوس دیکھ کر سخت برہمی کا اظہا کیا اور کہا کہ مذکورہ پولیس افسران کس قانون کے تحت اب تک وردیوں میں ملبوس ہیں۔ حالانکہ پولیس قوانین کے مطابق کوئی بھی معطل سپاہی یا افسر وردی پہن سکتا ہے اورنہ ہی اسلحہ رکھ سکتا ہے۔
جس پولیس اہلکار کے خلاف آپ کوشکایت ملی تھی اسے تو آپ گرفتار نہیں کر سکے اور اس کی جگہ ڈاکٹرز کوگرفتار کیا۔
جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ مذکورہ ڈاکٹر شراب کے نشے میں وہا ں دھت تھا جہاں سے ہمیں ایک اے ایس آئی ٹریفک پولیس اہلکار عمران کےغل غپاڑہ کرنے کی شکایت ملی تھی۔ اس لیے مذکورہ ڈاکٹر کو تھانے لیے جایاگیا۔ جس کا سانحہ خروٹ آباد والے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ محض پولیس حکام کی بے وقوفی تھی۔
جس پر چیف جسٹس نے غصے سے ایڈووکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی اور دیگر پولیس حکام سے کہا کہ وہ اپنے جرم کو بے وقوفی کہہ رہے ہیں۔اس سے ہمیں پولیس حکام کی اہلیت پر بھی شک ہوگیا ہے۔ جرم کرنے والے پولیس کوسزا کی بجائے الٹا ان کا دفاع کیا جا رہا ہے۔
سانحہ خروٹ آباد سے متعلق ٹربیونل ہماری ہدایت پر نہیں بلکہ صوبائی حکومت کی جانب سے تشکیل دیاگیا ہے۔
سماعت کے دوران پولیس حکام نے بتایا کہ انہوں نے ڈاکٹر سید باقر شاہ پر تشدد نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے تھانے میں بھی سر اور ہاتھ میں درد کی شکایت کی تھی۔ جس پر چیف جسٹس نے پولیس کو مخاطب کر کے کہا کہ ہاں مذکورہ ڈاکٹر کی آپ کے ساتھ پرانی دشمنی ہے اس لیے انہوں نے آپ کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کرایا اور ہسپتال میں داخل ہے۔
عدالت کے استفسار پر بتایا گیا کہ ڈاکٹر پر تشدد کے واقعہ پر چھ رکنی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے جوایس پی انویسٹی گیشن خالد منظور اور ایس پی عبداللہ جان کی سربراہی میں کام کرے گی۔
اس موقع پر عدالت کے پوچھنے پر ایس پی عبداللہ جان نے بتایاکہ سات دن کے اندر وہ اس سلسلے میں تحقیقاتی رپورٹ مکمل کریں گے۔اس کے بعد عدالت نے تیئس جون تک سماعت ملتوی کردی۔
شیخ الاسلام مولانا عبدالحمید نے جمعہ بیس فروری کو زاہدان کی نماز جمعہ کے اجتماع…
جنوری کے واقعات کا کوئی جواز نہیں؛ حکام جواز پیش کرنے کے بجائے عوام سے…
ایرانی عوام نے سن 1979ء میں “انصاف” اور “بہتر زندگی” کے حصول کے لیے انقلاب…
جنگ روکنے کا بہترین راستہ: ایرانی قوم کے مطالبات کو تسلیم کیا جائے
ایران میں حالیہ احتجاجات میں ہلاکتوں کی بڑی تعداد نے ایران کے عوام اور دنیا…
حالیہ احتجاجات میں عوام کے قتلِ عام کی مذمت اور شہداء کے خاندانوں سے ہمدردی…